0

فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، کسی سے بیک ڈور رابطے نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (مانند نیوز ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ  فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، ہمارے کسی قسم کے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے اور کسی قسم کی سیاست کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں۔  ان خیالات کااظہارانہوں نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور استیبلشمنٹ کے درمیان بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے کی جانے والی چہ مگوئیوں کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ عام طور پر میں ایسے معاملات پر بات کرنے سے احتراز کرتا ہوں تاہم بدقسمتی سے کچھ عرصہ سے اس حوالہ سے بہت زیادہ قیاس آرائیاں کی جارہی  ہیں جن میں کسی قسم کی صداقت نہیں، ہمیں کسی سے بیک ڈور رابطوں کی ضرورت نہیں، ہم اپنا کام کررہے ہیں،میری صرف گذارش یہ ہے کہ اگر اس حوالہ سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے تو مہربانی کرکے اسے سامنے لے آئیں، کس نے کس سے بات کی اور کس سے رابطہ کیا اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہو رہی۔ سیاست کو سیاستدانوں کے لئے چھوڑ دیں، جو بھی چاہے تجزیہ کار ہیں، چاہے پارٹی کی قیادت ہے، آپس میں جو بات چیت کررہے ہیں بالکل کریں، یہ ایک سیاسی ڈائیلاگ کاحصہ ہے اس کے اوپرجاری رہیں تاہم مہربانی کرکے فوج کے اوپر غلط الزامات اور غلط قسم کی چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں کسی کو زیب نہیں دیتیں، یہ ایک ادارہ ہے جو اپنا کام کررہا ہے اور الحمدُ للہ بہت بہتر طریقہ سے کررہا ہے، مہربانی کرکے اس کو اس بحث سے باہر رکھیں اور اگر کوئی آپ کے پاس حقیقت ہے اور کوئی تحقیق کی ہے اور اس کے حوالہ سے کوئی ثبوت ہے تو اس ثبوت کے ساتھ بات کریں اور سب کے سامنے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ مفروضوں پر باتیں نہیں کرنی چاہئیں، پاک فوج  بہت ہی اہم ادارہ ہے اور اس کو اس معاملہ میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے حوالہ سے کوششیں  بہت  حد تک کامیاب ہورہی ہیں اور ہم نے جو ثبوت پیش کئے تھے ان کو بہت سنجیدہ طور پر لیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ اس چیز کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان جو کہہ رہا ہے  اور بھارت کے خطہ میں کردار کے حوالہ سے ہمارے تحفظات ہیں اس کو بہت حد تک تسلیم کیا جارہا ہے اور اس حوالہ سے بین الاقوامی ادارے میں کافی سنجیدہ طور پر بات چیت کی جارہی ہے۔ بلوچستان کو عدم استحکام کرنے کے حوالے سے خاص طور پر بھارت کا جو کردار ہے اس حوالہ سے بہت زیادہ ثبوت آگئے ہیں اور اسے مہیا بھی کیا جارہا ہے اور ایک ایک کرکے اس سلسلہ کے تمام کردار بے نقاب ہو رہے ہیں، جن بھی لوگوں کو وہ استعمال کررہے تھے چاہے وہ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں یا چاہے ہمارے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریٹ کررہے ہیں وہ تمام کردار بے نقاب ہو رہے ہیں اور جن تنظیموں کو وہ استعمال کررہے تھے اور جو تنظیمیں اس مقصد کے لئے استعمال ہو رہی تھیں وہ صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے خطہ کے لئے ایک خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نقطہ نظر تسلیم کیا گیا ہے اور اسے نہایت سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبریں پھیلانا بھارتی میڈیا کا وطیرہ بن گیا ہے اور بدقسمتی بغیر کسی تحقیق اور بغیر صداقت کے، بغیر کسی قسم کی رتی بھر سچائی کے کوئی بھی خبر جو پاکستان کے خلاف ہو وہ بھارت کا سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ مین اسٹریم میڈیا بھی اس کو اٹھا کر چلانا شروع کردیتاہے جو کہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا جو کچھ کررہا ہے، میرے خیال میں اس وجہ سے بھارتی میڈیا اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے بالکل جھوٹی خبر بھارتی میڈیا کی جانب سے چلائی گئی، ایران نے اس خبر کی خود بھی تردید کی، نہ ایسا ہوسکتا ہے اور نہ ہی ایسا ہوا  ہے،ایران کے حوالے سے حال ہی میں بھارت نے ایک گمنام سی ویب سائٹ، جس کو دہشت گرد چلاتے ہیں، سے آئی جی ایف سی ساؤتھ بلوچستان کے حوالے سے کمنٹ کیا کہ انہوں نے شاید کوئی اس طرح  کی بات کی ہے مجھے  اس علاقہ کو کلیئر کرنے کے لئے یہاں پر چین کی طرف سے بھیجا گیا ہے، اس طرح کی بات کون کرسکتا ہے اور اس  چیز کو بھی لے کر بھارتی میڈیا نے ایک جھوٹی خبر کو اٹھایا اور اس کا پراپیگنڈا کیا، یہ بالکل جھوٹی اور جعلی ہے،ہر بار بھارت کی طرف سے ایک جھوٹی خبروں کا سلسلہ  شروع کیا جاتا ہے اور حال ہی میں بھارت جن مسائل کا اندرونی طور پر شکار ہے جب اس حوالے سے دنیا میں آوازیں اٹھی ہیں تو اس کو انہوں نے کس طرح ٹیک آن کیا۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت کا مین اسٹریم میڈیا بھی جھوٹی خبروں میں ملوث ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس سے پوری دنیا متاثر ہوئی، وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے قوم کی مدد کی۔ چین نے پاکستان کی افواج کو ویکسین عطیہ کی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی نے پاکستان کی مسلح افواج کو ویکسین کا تحفہ دیا اور یہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیاں تعلقات کی بھی بھر پور عکاسی کرتا ہے کہ ہمارا فوجی سطح پر آپس میں بہت اچھا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے  فیصلہ کیا ہے کہ اس وباء کا مقابلہ کرنے میں جو قربانیاں ہمارے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کئیر ورکرز نے دی ہیں، ہمارے خیال میں سب سے پہلے ویکسین کے وہ مستحق ہیں جو ویکسین پی ایل اے کی جانب سے پاک فوج کو دی گئی ہم نے وہ ویکسینیشن کی قومی مہم میں  حکومت کو دستیاب کردی ہے کہ وہ اس کو بہتر طریقہ سے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیما بھی لاپتہ ہوئے ہیں اور ان کی تلاش کے لئے تگ و دو کی جارہی ہے، علی سدپارہ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور وہ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کے بہت ہی مشکل مشن  پر گئے اور اس دوران تینوں کوہ پیما لاپتہ ہو گئے۔ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لئے تمام تر  کوششیں کر رہے ہیں، ہماری  اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیما خیریت سے ہوں اور ہمیں مل جائیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، سرچ آپریشن میں کوئی کمی نہیں ہو گی، خراب موسم کے باوجود مسلسل سرچ آپریشن کررہے ہیں۔ تین روز سے ریسیکو آپریشن جاری ہے اور ہیلی کاپٹرز اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور کئی پروازیں کر چکے ہیں تاہم ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ جبکہ پیدل لوگ بھی جا کر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش جاری ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں