0

کمزور طبقے کی مالی مدد حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

راولپنڈی (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کمزور طبقے کی مالی مدد حکومت کی اولین ترجیح ہے، احساس کفالت پروگرام غریب لوگوں پر کوئی احسان نہیں۔ راولپنڈی میں احساس کفالت پروگرام کے دوسرے مرحلے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کی مالی مدد حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ احساس کفالت پروگرام غریب لوگوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے اس طبقے کو جو کمزور ہے اس کی حمایت کریں، ان کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو ایک صحت کارڈ دیں گے، جس کا مطلب آپ ساڑھے 7 لاکھ روپے تک کسی بھی ہسپتال میں علاج کرانا چاہیں گے تو وہ مفت ہوگا لیکن اس کے علاوہ ہم ایک اور پروگرام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم مزدوروں کے لیے ہے جو کبھی اپنا گھر نہیں خرید سکتے، ہم ایک نیا ایسا سسٹم لارہے ہیں کہ بجائے کرایہ دینے کے وہی رقم قسطوں میں چلا جائے گا اور گھر آپ کا ہوجائے گا، اس کے لیے بھی ہم کوشش کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہم اخوت کے ساتھ مل کام کر رہے ہیں اور انہیں ساڑھے 3 ارب روپے دے چکے ہیں اور آگے 10 ارب روپے دیں گے تاکہ مستحق لوگوں کو وہ بغیر سود کے قرضے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم آپ کو اپنے کاروبار کرنے کے لیے مدد کریں گے، جس کے بارے میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر آگاہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے مستحق لوگوں کو جائیں کیونکہ ہم نے ایسی فہرستیں دیکھی ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو مستحق نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے احساس پروگرام میں پیسوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں یا منصفانہ طریقے سے نہیں کی، یہ ثانیہ نشتر کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے اور کہیں سے یہ آواز نہیں آئی کہ پیسے کی تقسیم غیرمنصفانہ تھی بلکہ سندھ کی آبادی کے حساب سے ہم نے زیادہ پیسہ سندھ میں دیا، حالانکہ ہماری وہاں حکومت نہیں وہاں غربت زیادہ ہے تاہم ہم نے میرٹ کی بنیاد پر یہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم  اس کا دوسرا مرحلہ شروع کر رہے ہیں جس میں 70 لاکھ خاندانوں میں ہم پیسے بانٹنا شروع کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اس کی منصفانہ تقسیم ہو اور سیاسی بنیادوں یا من پسندوں کو پیسہ نہیں بانٹا جائے گا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں