0

ملکی تاریخ کے ریکارڈ 6 ہزار ارب روپے قرضے واپس کیے، عمران خان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ کے ریکار ڈ6ہزار ارب روپے قرضے واپس کیے،معیشت آج مثبت سمت میں جارہی ہے، ٹیکسٹائل کی صنعت بحال ہوئی، کورونا کے باوجود معیشت میں استحکام آرہا ہے،بیرون ملک مقیم پاکستان ملک کا بڑا اثاثہ ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے ترسیلات زرکا 500 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکی تاریخ میں ریکارڈ قرضے واپس کئے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے اتنے زیادہ قرضے واپس نہیں کئے۔ اب تک ہم اڑھائی سالوں میں 20ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے واپس کر چکے ہیں یعنی  اب تک 6000ارب روپے قرضوں کی قسطیں دے بیٹھے ہیں۔ اتنے بڑے قرضے کے بوجھ کے  باوجود ہمارے تمام معاشی اعشاریئے مثبت ہو رہے ہیں۔ کوروناوائرس کی وجہ سے بھارت کی معیشت 10فیصد منفی میں گئی ہے، برطانیہ میں 300سال کے بعد اتنی بڑی کساد بازاری آئی، جبکہ تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت آج مثبت سمت میں جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اب سے نہیں بلکہ 20سال سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانیز ہیں اور کرکٹ کی وجہ سے میرا شروع ہی سے اوورسیز پاکستانیز سے رابطہ تھا اور جب میں نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا تو سب سے زیادہ رسپانس مجھے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں سے ملا، تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارا بہت بڑا پوٹینشل باہر بیٹھا ہے۔ جب سے ہم حکومت میں آئے ہیں سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ  تھا جس میں ملک میں جو ڈالرز آرہے تھے  وہ کم تھے اور جو ڈالرز باہر جاررہے تھے وہ بہت زیادہ تھے، دونوں میں بہت بڑا خسارہ تھا اور کرنٹ اکاؤنٹ کا ریکارڈ خسارہ تھا، 20ارب ڈالرز کا خسارہ تھا جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت کو نہیں ملا،اس کا سب سے برا اثر کرنسی پر ہوتا ہے اور جب کرنسی کی قیمت کم ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر اس ملک کے غریب عوام کے اوپر ہوتا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ جب ڈالر 160روپے پر گیا اور اس سے تیل مہنگاہو ا اور اس کے نتیجہ میں ہر چیز مہنگی ہو گئی، ٹرانسپورٹ، بجلی سب چیزوں پر اثر پڑتا ہے جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے۔ کھانا پکانے والے تیل کی قیمت بھی  ڈالر کے مہنگا ہونے سے  بڑھ گئی کیونکہ یہ بھی ہم امپورٹ کرتے ہیں۔ 70فیصد دالیں امپورٹ ہوتی ہیں وہ مہنگی، اور جب کرنسی ڈی ویلیو ہوئی تو اس کا اثر عوام کے اوپر پڑا۔ ہمارے لوگ اور خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ بڑے مشکل دور سے گزرے ہیں،شروع ہی سے ہم ایک بات کا احساس کیا کہ جب تک ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نہیں بڑھتے اور ہمارا روپیہ مضبوط نہیں ہوتا تو پھر سرمایہ کاری بھی صحیح معنی میں نہیں آتی۔ سرمایہ کاری ملکی شرح نمو کو بڑھاتی ہے اور سرمایہ کاری اس وقت آتی ہے جب لوگوں کے ڈالرز میں پیسے پڑے ہوں یا جنہوں نے باہر سے پیسے کی سرمایہ کاری کرنی ہو اور جب لوگوں کو پتہ ہو کہ ڈالر کو ہم روپے تبدیل کر کے سرمایہ کاری کریں گے اور روپے نے گرتے رہنا ہے تو پھر سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے، طویل المدتی صرف یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنی ایکسپورٹس بڑھائیں اور میں وزارت تجارت کو داد دینا چاہتا ہوں کہ ہماری ایکسپورٹس میں ریکاڑد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جب پوری دنیا میں کوروناوائرس کی وجہ سے معیشتوں کے برے حالات  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں ہماری برآ مدات بھارت اور بنگلادیش جو ہم سے آگے تھے ان سے زیادہ  تیزی سے بڑھی ہیں اور خاص طور پر ٹیکسٹائل کا شعبہ بڑا پھل پھول رہا ہے جہاں ایک طرف لوگ ٹیکسٹائل ملز بند کرکے جائیداد کی خریدوفروخت کے کاروبار میں لو گ جارہے تھے، آج فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں نئی ملز لگ رہی ہیں اور ٹیکسٹائل ملز کے لئے ہنر مند لوگ نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان  ڈاکٹر رضا باقر کا بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں سے رابطہ ہونا بہت ضروری ہے، سٹیٹ بینک میں ایک سیل ہونا چاہئے جو بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کا ہر مسئلہ حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانی جو پاکستان رقم بھیجنا چاہتے ہیں ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور جتنی تیزی سے لوگ رقوم بھیجیں گے اتنی ہی تیزی سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔اب تک 97ملکوں میں 88ہزار بینک اکاؤنٹس ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لئے ایک بہت بڑی منظم  اشتہاری مہم چلانے کی ضرورت ہے اور جتنی بڑی اشتہاری مہم چلائیں گے اتنی ہی تیزی سے اکاؤنٹس بڑھیں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں