0

خیبر پختونخوا حکومت کا یونیورسٹیوں میں موبائل ایپ متعارف کرنے کا فیصلہ

 
سوات (مانند نیوز ڈیسک) مشیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کا قیام ناگزیر ہے مگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی طرف سے خصوصی احکامات ہیں کہ یونیورسٹیوں کو مالی امور میں خود کفیل ہونا چاہیے تاکہ وہ انتظامی اور تدریسی امور  بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔ سوات میں انجینئرنگ یونیورسٹی اس وژن کے تحت ایک مثال بنے گی۔ یونیورسٹی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے حال ہی میں یونیورسٹی کا امریکی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمتی یاداشت طے پایا ہے جس سے یونیورسٹی کو تکنیکی مدد فراہم ہوگی اور دونوں یونیورسٹیوں کے طلباء ایک دوسرے کے تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہوسکیں گے۔یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کو استحصال اور ہراساں ہونے سے بچانے اور ماحول کی بہتری کے لئے موبائل ایپ متعارف کررہے ہیں اور پیپر چیکینگ کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لارہے ہیں۔ کالجوں میں ایوننگ کلاسز کا اجراء ہوچکا ہے اور اگلے سال ایسے کالجوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 24 ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کے ایک روزہ دورے کے موقع پر پختونخوا ریڈیو سوات کو دئے گئے انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر ایم این اے سلیم الرحمان بھی موجود تھے۔ریڈیو ہوسٹ فضل خالق کے ایک سوال کے جواب میں مشیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ سوات میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ وادی کی قدرتی خوبصورتی کو ہر قسم کے چیلنجز سے بچانے کے لیے بھی اقدامات ہورہے ہیں۔ دریائے سوات وادی کی پہچان ہے اور اس کے قدرتی ساخت کو برقرار رکھنے کے لیے غیر قانونی مائننگ اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اس سلسلے میں سخت احکامات جاری کئے ہیں اور کہا ہے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ مشیر اطلاعات کے کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں خصوصاً سوات موٹروے فیز ٹو کی تکمیل سے سوات سیاحتی اور معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہوگا۔پورے صوبے میں معاشی زونز بنائے جارہے ہیں جس سے نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں