0

سینٹ انتخابات کیلئے انتخابی مہم نصف شب ختم ہوجائے گی، الیکشن کمیشن

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں سینٹ انتخابات کے لئے انتخابی مہم آج پیر کی نصف شب کو ختم ہوجائے گی۔الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے کہاہے کہ وہ قانونی ضابطوں پر عملدرآمد کریں اور ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ بدھ کے روز ہونیوالے انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے،دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے بھی ایک دوسرے سے رابطوں میں تیزی آ گئی۔ جماعت اسلامی اور عوامی بلوچستان پارٹی کی اہمیت بڑھ گئی۔سینیٹ انتخابات کے دن قریب آتے ہی امیدواروں نے ارکان اسمبلی کی بولیاں لگانا شروع کر دیں، تجوریوں کے منہ کھول دئیے گئے۔ جنرل، ٹیکنو کریٹس اور خواتین نشستوں کی الگ الگ قیمتیں مقرر کر دی گئیں، اراکین اسمبلی سے انفرادی طور پر رابطے شروع ہو گئے۔وفاقی وزیر پرویز خٹک نے ناراض ارکان کو منانے اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے اوردیگر جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے لئے صوبائی وزرا کو ٹاسک سونپ دیا ہے، پرویز خٹک سینیٹ کی 11 نشستیں جیتنے کے لئے کوشاں ہیں۔اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے اراکین اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ سے روکنے کے لئے خفیہ اجلاس کر رہی ہیں اور جنرل نشستوں پر ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کے لئے رابطے تیز کر دئیے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اے این پی کو سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے 94ارکان، بلوچستان عوامی پارٹی 4، جے یو آئی کے 15، اے این پی 12، ن لیگ 7، پیپلز پارٹی 6،جماعت اسلامی 3، ق لیگ ایک اور 3 آزاد ارکان براجمان ہیں تاہم جن ایم پی ایز کو آئندہ الیکشن میں اپنی پارٹیوں سے ٹکٹ نہ ملنے کے امکانات کم ہیں وہ دوسری پارٹیوں کو ترجیح دیں گے،ارکان سینیٹ کی مدت 6 سال کے لئے ہوتی ہے۔ وفاق اور تمام صوبوں میں سینیٹ کی جنرل نشستوں کی کل تعداد 58 ہے۔ ٹیکنوکریٹس کی 17، خواتین 17 اوراقلیتوں کی 4 نشستیں ہیں۔جنرل نشستوں کی تقسیم دیکھی جائے تو وفاق میں ارکان کی تعداد 2، پنجاب،  بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں 14،14 رکھی گئی ہے۔علما اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کی وفاق میں تعداد ایک اور صوبوں میں 4،4 ہے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں میں وفاق کا حصہ ایک اور صوبوں کا 4،4 ہے۔اقلیتوں کیلیے اسلام آباد سے کوئی نشست نہیں ہے اور صوبوں سے ایک ایک اقلیتی رکن کو ایوان بالا میں نمائندگی دی جاتی ہے۔سینیٹرزکی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اورآدھے ارکان نئے منتخب ہوکر آتے ہیں۔سینیٹ کے 52 ارکان11 مارچ2021 کو اپنی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ریٹائر ہونے والے ارکان میں پیپلزپارٹی کے 7، مسلم لیگ ن 16، تحریک انصاف7، ایم کیو ایم 4، جے یو آئی 2، بلوچستان عوامی پارٹی 4، پی کے میپ 2 اور5 آزاد سینیٹرز بھی ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور بی این پی مینگل کے جہانزیب جمالدینی بھی ریٹائر ہور ہے ہیں۔ اے این پی کی سینیٹر ستارہ ایازاپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی استعفی دے چکی ہیں،سینٹ انتخابات تین مارچ کو ہونگے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں