0

نوجوانوں کو روزگار دینا سب سے بڑا چیلنج ہے، عمران خان

جہلم (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار دینا سب سے بڑا چیلنج ہے،سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جو سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے، ہم اپنے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان بھر کے سیاحتی مقامات کو ترقی دے رہے ہیں،ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی مقامات کو محفوظ کرنا ہے۔جہلم کے علاقے قلعہ نندنہ میں البیرونی ہیریٹیج ٹریل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ صحیح معنوں میں اپنی تاریخ کا موازنہ نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ قرآن شریف کے اندر اللہ پاک نے ہمیں نصیحت دینے کے لیے بتایا کہ گزشتہ زمانوں میں کیا ہوا تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ آج کل جتنی بھی اقوام ترقی کر گئی ہیں وہ سب اپنی پرانی عمارتوں اور تاریخی مقامات پر کھدائی کر کے آثار قدیمہ نکالتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ کام نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سارے جدید ممالک میں مسلسل کھدائی کر کے قدیم چیزیں نکال کر دیکھا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں کس طرح لوگ رہتے تھے، ساری دنیا یہ کرتی ہے، ہمارے ہاں بھی موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب انگریزوں نے دریافت کی تھی، اس کے بعد ہمارے اپنے آرکیالوجسٹس نے بہت کم کام کیا بلکہ کچھ کیا ہی نہیں۔ عمران خان نے کہاکہ ہمارے ایک آرکیالوجسٹ صمد نے ہری پور میں دنیا کا سب سے بڑھا 40 فٹ کا بدھا کا مجسمہ، جسے ‘سلیپنگ بدھا’ کا نام دیا گیا، دریافت کیا ہے اور ایسے قابل پی ای ڈی آرکیالوجسٹس انتہائی کم ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جہاں بدھ مت مذہب کے ماننے والے ہیں اب وہ سب آکر اس مجسمے کو دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ان سب چیزوں کو محفوظ کرنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو روزگار دینا ہے، سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جو سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ پاک نے جس طرح کی نعمتیں بخشی ہوئی ہیں، دنیا کے ہر ملک میں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں کہ سمندر، سب سے اونچا پہاڑ اور دنیا کی سب سے پرانی تہذیب بھی موجود ہو اس لیے ہم دنیا کو بہت اچھی سیاحت فراہم کرسکتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ سالٹ رینج میں موجود قدیم شہر کتنے قدیم ہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جس مقام پر سیاحوں کی رہائش اور دیکھ بھال کا اچھا انتظام نہ ہو وہاں سیاح نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک میں سیاحت ہے مثلا سوئٹزر لینڈ، سری لنکا، ملائیشیا، ترکی میں مقامی افراد سیاحوں کا خیال رکھتے ہیں کیوں کہ اس کا فائدہ انہیں ہی پہنچتا ہے، انہیں پیسہ اور روزگار میسر آتا ہے جس سے پورے علاقے کا فائدہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیاحت کو مقامی افراد کامیاب بناتے ہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ باغان والا گاؤں کو ماڈل ولیج بنائیں پھر دیگر سہولیات فراہم کریں تا کہ سیاح یہاں آکر قیام کریں، پیسہ خرچ کریں جس سے سارے علاقے کا فائدہ ہو۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان بھر کے سیاحتی مقامات کو ترقی دے رہے ہیں، جس میں ہم نے اس گاؤں کا بھی فیصلہ کیا جہاں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نے زمین کی پیمائش کی اور اتنی درست پیمائش کی جسے دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے۔بعد میں البیرونی نے اس علاقے کے بارے میں ایک مشہور کتاب لکھی اور نندانہ کو بڑا علمی مرکز قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بہت خاص جگہ ہے جہاں ایک ہزار سال قبل البیرونی نے کئی سال رہ کر زمین کی پیمائش کی جبکہ یورپ میں یہ کام 4 سے 5 سو سال بعد ہوا، ہم اس علاقے کو ترقی دیں گے، یہ دنیا کے نقشے پر آجائے گا جس سے سارے علاقے میں تبدیلی آجائے گی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں