0

چترال میں جامعہ للبنات سینگور میں ختم بخاری شریف

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے سینگور کے ایک دینی مدرسے جامعہ للبنات  میں حتم بخاری شریف کا اہتمام ہوا۔ اس موقع پر سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا عبد الرحمان  مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب میں  اپر چترال کے مولانا شیر کریم شاہ، شاہی مسجد کے پیش امام قاری شبیر احمد اور دیگر علماء نے بھی شر کت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علماء  نے اس بات پر زور دیا کہ اپنے بچوں اور حاص کر بچیوں کو ضرور دینی تعلیم دلوانا چاہئے کیونکہ جب ایک ماں دیندار ہو تو اس کے سارے بچے خود بخود دیندار اور نیک بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بڑی ہستیاں گزر چکی ہیں ان کی تربیت میں ان کی ماں کا بڑا کردار رہا ہے۔حتم بخاری شریف میں شیح الحدیث  مولانا فتح الباری  نے فون کے ذریعے بچیوں سے بخاری شریف کی آحری حدیث سنی اور اس پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف قران مجید کے بعد اس سرزمین میں سب سے زیادہ مستند کتاب ہے۔ امام بخاری جب بھی کوئی حدیث لکھتا تھا تو پہلے غسل کرکے  دو رکعت نفل پڑھتا اور اس کے بعد حدیث راوی سے تحریر میں لاتا۔قاری شبیر احمد نے نہایت پر سوز انداز میں دعا مانگی اور لوگوں پر زور دیا کہ اپنا تعلق اللہ تعالی سے استوار رکھو اور حوف خدا دل میں پیدا کرو۔ جب تک ہم دین کے ساتھ وابستہ رہیں گے ہماری دین اور دنیا دونوں استوار ہوں گے اور ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی ملے گی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طالبات پر زور دیا کہ وہ شرعی احکامات  کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے والدین اور اہل حانہ سے بھی اچھے تعلقات رکھو تاکہ آپ دوسروں پر بوجھ نہ بنو۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے مولانا فتح الباری نے کہا کہ یہ دار العلوم 2001 میں قائم ہوا ہے۔ اس سال اس مدرسے سے فارغ ہونے والے طالبات کی تعداد سترہ ہے  جو چھ سالہ دورہ پورا کرکے اج فارغ ہورہی ہیں۔ اسی طرح اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہیں اس مدرسے کے سترہ بچیاں عالمی بن چکی ہیں اور  سات بچیوں نے حفظ قرآن بھی مکمل کیا ہے۔ اس ادارے میں درس نظامی وفاق کے تحت ہے اسی طرح حفظ، قاعدہ اور ناظرہ کی کلاسیں ہیں ۔ تجوید العالمات اور تجوید الحافظات کی بھی شعبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 195  غیر مقامی بچیاں ہاسٹل میں رہ کر پڑھتی ہیں جبکہ تین سو طالبات یہاں بیک وقت  محتلف شعبوں میں علم حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مدرسے سے سینکڑوں طالبات فارغ ہوکر ملک کے محتلف شہروں میں دینی علوم سکھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کافی مشکلات کا بھی سامنا ہے  ایک تو جگہہ کی کمی ہے اور وسائیل کی کمی کی باوجود  ہم ان کی اس راہ میں تربیت کرتے ہیں۔ یہاں طالبات کی تعداد زیادہ ہے اور عمارت کم پڑتی ہے  ایک ہی عمارت میں ناظرہ اور حفظ بھی پڑھائی جاتی ہے جس سے دوسرے طالبات کی سوچ منشتر ہوتی ہے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اپنے بچیوں کو دینی علوم  سیکھنے کیلئے ایسے مدارس میں داحل کرے اور ان کی اخلاقیات  کی تربیت پر زور دے۔محمد نادر کا تعلق ضلع اپر چترال کے علاقے ریچ سے ہے اور اس کی بیٹی بھی چھ سالوں سے اسی مدرسے میں علم حاصل کرتی تھی آج وہ فارغ ہورہی ہے اور میں بہت خوش ہے اور اپنی بچی کو  لیکر اپنے پورے گاؤں کو مفت دینی تعلیم دلواں گا۔ یہ با برکت تقریب قاری شبیر احمد کے دعائیہ کلمات سے احتتام پذیر ہوئی۔ تقریب کے بعد شرکاء  کو ظہرانہ بھی دیا گیا۔  

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں