0

الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے بیلٹ پیپر ٹریس ایبل ہو گا یا نہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن کے لئے  جو بیلٹ پیپر چھاپے گا وہ ٹریس ایبل ہو گا یا نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن فیصلہ کر لیتا ہے کہ ووٹ ٹریس ایبل ہو گا تو پھر اس حوالہ سے ٹیکنالوجی موجود ہے اور بیلٹ پیپرز ایک دن میں چھپ جائیں گے۔ ان خیالات کااظہار فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ فواد چوہدری  نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ الیکشن کمیشن ووٹ کو ہمیشہ خفیہ رکھنے کے اصول پر نہ جائے بلکہ جہاں پر ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے، ووٹ کے ساتھ کھیلے جانے کا خطرہ ہے، ایسا بیلٹ پیپر ہونا چاہئے جس سے یہ چیک  ہو سکے کہ جو الزامات ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل63-Aکے تحت اراکین پر پابندی نہیں ہے کہ وہ لازمی طور پر اپنی ہی پارٹی کو ووٹ دیں لیکن جہاں پر یہ الزام آجائے کہ انہوں نے ووٹ پیسے لے کر جان بوجھ کر دیا ہے تو پھر وہ آرٹیکل63میں منتقل ہوتے ہیں اور اس میں ایماندرا اور کردار کی بات آجاتی ہے تو وہ لوگ پھر اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لئے ضروری ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جو بیلٹ پیپر چھاپے گا وہ ٹریس ایبل ہو گا یا نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن فیصلہ کر لیتا ہے کہ ووٹ ٹریس ایبل ہو گا تو پھر اس حوالہ سے ٹیکنالوجی موجود ہے اور بیلٹ پیپرز ایک دن میں چھپ جائیں گے۔ جبکہ فواد چوہدری کا پیر کے روز ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ  سپریم کورٹ  آف پاکستان نے کرپشن کے خاتمے،ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی اور اراکین کے لین دین کے معاملات کو ختم کرنے کے مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے اور مکمل خفیہ رائے دہی کا اصول نہیں مانا۔ الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ وہ شفاف انتخابات کیلئے اقدامات کرے جس  میں ٹریس ایبل بیلٹ شامل ہے۔ 

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں