0

سینیٹ انتخابات آئین کے مطابق خفیہ رائے شماری سے ہونگے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدراتی ریفرنس پر اپنی رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے مطابق خفیہ رائے شماری سے ہونگے تاہم ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ نے چار ایک کی نسبت سے رائے دی ہے جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔عدالت نے رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تابع ہیں اس لئے اوپن بیلٹ کے ذریعے نہیں کرائے جاسکتے۔ یہ الیکشن آئین کے آرٹیکل226کے تحت ہی ہونگے۔عدالت نے قراردیا ہے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اس لئے الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرائے۔ سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہی ہونگے۔ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کرائے جا سکتے۔ عدالتی رائے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ میں چار- ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا۔ عدالت نے کہا کہ سینیٹ الیکشن آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت عظمی نے رائے محفوظ کی تھی۔اپنی رائے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کر سکتا ہے۔ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرسکتا ہے۔عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام ادارے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کے پابند ہیں،پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتی ہے، سینیٹ کے الیکشن آئین کے آرٹیکل 226کے تحت ہی ہونگے۔ قبل ازیں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سوال صرف آرٹیکل 226کے نفاذ کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ انتخابی عمل سیکرپشن کے خاتمے کے لیے ترمیم نہیں کی جا رہی؟ انتخابی عمل شفاف بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں قرار دادیں منظور ہوتی ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدارتی ریفرنس 23 دسمبر کو سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ 4 جنوری کو 5 رکنی لارجر بینچ نے پہلی سماعت کی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی تحریری رائے دینے کی پیشکش کی گئی۔اٹارنی جنرل نے 11 جنوری سے 17 فروری تک دلائل مکمل کیے۔ عدالت نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سمیت وکلا تنظیموں کا مقف بھی سنا۔ مجموعی طور پر 20 سماعتوں کے بعد عدالت نے رائے محفوظ کی تھی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں