0

حکومت کی طرف سے مختص فنڈ 8 لاکھ روپے سے ایک کمرہ تعمیرکرنا ناممکن ہے

جمرود (مانند نیوز ڈیسک) ​تفصیلات کے مطابق پیرنٹس ٹیچر کونسل کو سکول میں ایک کمرے کے تعمیر کے لئے 8 لاکھ روپے ناکافی ہیں،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیرنٹس ٹیچرکونسل کے ممبر محمد شیر نے کہا ہے کہ سی این ڈبلیو کی ایک کمرے کی لاگت 13 سے 14 لاکھ روپے ہیں،مگر یہاں پی ٹی سی کمیٹی کو محکمہ تعلیم سے 8 لاکھ روپے دئیے جا رہے ہیں جو ناکافی ہیں،انہوں نے کہا کہ پیرنٹس ٹیچر کونسل ایک ایک پیسہ ایمانداری سے خرچ کر رہے ہیں اور میٹریل کی کوالٹی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے انہوں نے موجودہ دور میں میٹر یل کی ریٹس کی جو لیسٹ پیش کی پھر حکومت کی طرف سے ایک کمرے کے لئے آٹھ لاکھ روپے مختص رقم سے اس کی تعمیرناممکن ہے کیونکہ اس ایک کمرے کی 25 فٹ لمبائی اور 16 فٹ چوڑائی ہے،سات عدد پنکھے، ایک عدد الماری، پانچ کھڑکیاں ایک دروازہ،بجلی مکمل فیٹنگ، سریا فی ٹن 128000 ہزار۔ سیمنٹ فی بوری چھ سو روپے، اینٹوں کی قیمت ایک نمبر 4 ہزار اینٹوں کی قیمت 51000 روپے، ایک کمرے پر اینٹوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار آتی ہیں کرش بڑا چار سینکڑے 13000 سے لے 15000 ہزار روپے تک، ریت چار سینکڑے 14000 روپے ہزار روپے سے لے 150000 ہزار روپے تک،پانچ کھڑکیاں اور ایک دروازہ اور ایک الماری کی تقریبا قیمت بہترین گیج والا چادر 130000 سے لے 150000 روپے تک تخمینہ لاگت ہیں گلکار کی مزدوری 1500 روپے سے لے 2000 تک اور مزدور 800 روپے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکول کے کمرے کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کرکے فنڈز کو 14 لاکھ تک بڑا دیا جائے تاکہ سکول کی کمروں کی تعمیراتی کام بغیر کسی رکاوٹ کے پائے تکمیل تک پہنچ جائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں