0

صوبائی وزیر محنت و ثقافت سے مختلف یونین کونسل وفود کی ملاقاتیں

الپوری (مانند نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی سے ان کے رہائش گاہ پر مختلف یونین کونسل سے آئیں ہوئے وفود کی ملاقاتیں، وفود نے اپنے اپنے علاقوں کے درپیش مسائل سے آگاہ کیا، انھوں نے مسائل غور و فکر سے سنے بعض مسائل کو موقع پر حل کئے، بعض مسائل کو متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو حل کرنے کی احکامات جاری کردی اور بعض مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کی۔ اس موقع پر علاقائی عوام نے مسائل حل کرنے پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر وقاراحمدخان، حاجی سدید الرحمان،سیدالابرار،شمس الرحمن اور دیگر پارٹی مشران بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر محنت و ثقافت جناب شوکت یوسفزئی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری میں صحت انصاف کارڈ پلس کا افتتاح کیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شانگلہ کے ایم ایس ڈاکٹر شفیع الملک نے ہسپتال کے مسائل پر بریفینگ دی جس پر انھوں نے کہا کہ بہت جلد وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے ملاقات کرکے ان مسائل کو حل کریں گے۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری سمیت شانگلہ کے 5 ہسپتالوں میں صحت انصاف کارڈ پلس پر 10 لاکھ روپے تک مفت علاج ہوسکے گا، بلا امتیاز ہر کسی کو سہولیات فراہم کی جائے گی۔بعدازاں صوبائی وزیرشوکت یوسف زئی نے بشام میں صحافیوں سے با چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سینٹ کے گزشتہ انتخابات میں جب حکومت نے   صادق سنجرانی کو سینٹ کا امیدوار بنایا تو اس وقت بھی ان لوگوں کے پاس اکثریت نہیں تھی اور خفیہ بیلٹ کے بعد ان کے اپنے ان سے چلے گئے۔شوکت یوسف زئی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ پیسوں کے بل بوطے پر سیاست کی اور نظام کو کھوکلا کردیا ہے۔اگر ہم چاہے تو تمام سرکاری وسائل ہمارے پاس ہے لیکن وزیراعظم عمران خان نہ الیکشن پرپیسے خرچ کرتے ہے نہ اجازت دیتے ہیں۔اپوزیشن نے ساڑے دو ارب روپے خرچ کیے اور ایسے شخص کو کامیاب کیا جس کو سپریم  کورٹ نے نا اہل قرار کردیا تھا اور ان کو سینٹ میں کامیاب کیا اور ان کو اب چیئرمین سینٹ کا امیدوار بھی بنادیا جو نااہل ہے جبکہ دوسری طرف صادق سنجرانی جیسے تجربہ کار کو حکومتی اتحاد نے امیدوار نامزد کیا ہے جس کا ایک طرف تجربہ ہے تو دوسری طرف چھوٹے صوبے بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور پی ٹی ائی حکومت کی خواہش ہے کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ بڑے عہدوں پر آئے تاکہ وہاں کے محرومیوں کا ازالا ہوسکیں۔شوکت یوسف زئی نے کہا کہ گیارہ جماعتوں کا اپوزیشن دھرنوں اور احتجاج کے بجائے پارلیمنٹ میں آکر مقابلہ کریں۔جب ہم نے دھرنا دیا تھا تو یہ لوگ کہتے تھے کہ پارلیمنٹ اجائے،پارلیمنٹ ہی سیاسی باتوں کی جگہ ہیں اور جب ہم آئے تو اب یہ لوگ بھاگ رہے ہیں۔احتجاج اور دھرنوں کیلئے گیاروں جماعتیں پندرہ ہزار لوگ اکھٹے کریں کوئی بڑی بات نہیں یہ تو ایک ایم پی اے بھی کرسکتا ہے۔شوکت یوسف زئی نے صحافیوں کے مہنگائی کے سوالات پر کہا کہ مہنگائی ہے اور یہ احساس وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ بھی ہے مگر عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماضی کے حکمرانوں نے قرضے لیکر موٹرویز بنائی اور سود چھڑتا گیا اور اب قرضے واپس کرنے ہے تو مہنگائی تو ہونی ہے اور اب عمران خان قرضے واپس کررہے ہیں اب تک دس ہزار ارب روپے قرضوں کے مد میں واپس کیے گئے جو قرضہ عمران خان نے لیا ہی نہیں بلکہ نواز شریف نے لیا تھا اور وہ بھاگ کر لندن میں ہیں مگر قرضہ تو دینا ہے۔کرونا وائرس کے باوجود آج معیشت مستحکم ہورہی ہیں تیکسٹائل ار کنسٹرکشن انڈسٹری بہتری کی طرف جارہی ہے جس سے لوگوں کو روزگار مل رہا ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں