0

صحت کارڈ پلس میں گردوں کے امراض کا مفت علاج بھی شامل ہے, تیمور جھگڑا

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے ذریعے گردوں کے امراض کا مہنگا علاج بھی مفت کیا جا رہا ہے۔ کورونا وباء کے دوران صحت نظام نے بہتر طریقے سے کام کیا اور صوبائی حکومت اسے مزید بہتر بنانے کے لیے کاوشیں کر رہی ہے۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ورلڈ کڈنی ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سی ای او شفیق الرحمن، اسپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹر سید فاروق جمیل، ہیلتھ کیئر کمیشن کے سی ای او، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تقریب میں متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے گردوں کے امراض، علاج اور ان کی حفاظت کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر تیمور جھگڑا نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے مسائل سے آگاہ ہے اور اس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ خاص طور پر ایسے شعبہ جات پر جن کی سہولیات صوبے میں بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری اور نجی شعبہ کو یکساں اہمیت اور ترقی کے مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ لوگوں تک جلد از جلد ہر قسم کی صحت سہولیات باہم پہنچا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری جتنی بڑھے گی اتنی ہی ہیلتھ سروسز کی موجودہ قیمتوں میں کمی واقع ہو گی۔ تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ گردوں کے امراض، ڈائیلاسز اور ان کے ٹرانسپلانٹ کا مہنگا ترین عمل بھی اب صحت کارڈ پلس میں شامل کر دیا گیا ہے۔ تیمور جھگڑا نے ورلڈ کڈنی ڈے کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب میں صوبے اور تمام ملک کے ہیلتھ ورکرز کی کورونا وباء کے دوران خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ انہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ ہیلتھ سسٹم نے عالمی وبا کے دوران ڈیلیور کیا اور ہمیں کم سے کم نقصان اٹھانا پڑا۔ صوبائی وزیر نے کہا وباء کی تیسری لہر سر اٹھا رہی ہے جس کے لیے ہم سب کو احتیاط کرنی ہو گی اور کورونا ویکسینیشن کے عمل کو سہل اور تیز بنانے میں حکومت سے تعاون کرنا ہو گا۔ اس موقع پر رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سی ای او شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے شوگر اور بلڈ پریشر سے گردوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں ہمیں مستقبل میں اور زیادہ یونٹس کی ضرورت ہو گی۔ ہم حکومت کی اس کاوش کا خیر مقدم کرتے ہیں جسمیں اس مہنگے علاج کو صحت کارڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء ورلڈ کڈنی ڈے کی مناسبت سے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں واک کا اہتمام کیا گیا۔ جس کا مقصد لوگوں میں اس بیماری اور اسکی وجوہات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔ واک میں اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اس کاوش کو سراہا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں