0

افغانستان تعمیر نو منصوبوں میں دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کے منصوبے تباہ ،امریکی رپورٹ

 واشنگٹن (مانند نیوز ڈیسک) افغانستان کی تعمیر نو کے  لیے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ مالی امداد پر نظر رکھنے کے لیے بنائے گئے امریکی نگران ادارے سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن نے انکشاف کیا ہے کہ  تعمیر نو  منصوبوں میں دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کے منصوبے تباہ و برباد ہو گئے ہیں، تعمیراتی منصوبے جن میں سکول، ہسپتال اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانے شامل ہیں سرکاری سطح پر غفلت، استعمال نہ کیے جانے، غیر معیاری تعمیراتی کام یا جنگ کی وجہ سے یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا زبوں حالی کا شکار ہیں۔سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی فوج کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے خریدے گئے 20 میں سے 16 ٹرانسپورٹ طیارے صرف چند سال ہی میں ناکارہ قرار دیے جانے کے بعد صرف 40 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیے گئے۔ سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی تازہ ترین رپورٹ میں ان طیاروں کے بارے میں تحقیقات کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔یہ طیارے افغانستان کے لیے اٹلی سے خریدے گئے تھے۔انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی مالی امداد سے افغانستان کی تعمیر نو کے منصوبوں میں دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کے منصوبے تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکم انصاف نے مئی 2020 میں ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘جی 222 ایئرکرافٹ پروگرام’ میں جو ناکامی ہوئی اس میں کسی پر فوجداری یا سول مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ بی بی سی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی محکم انصاف کے نوٹیفیکشن کی روشنی میں اس معاملے میں کسی کو جواہدہ یا موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گئے 20 جی 222 طیارے اٹلی سے افغانستان کی مسلح افواج کے لیے خریدے گئے تھے۔ ان میں سے 16 کو صرف چند سال میں ہی سکریپ یا ناکارہ قرار دے کر 40 ہزار ڈالر میں بیچ دیا گیا جبکہ چار طیارے اب بھی جرمنی میں ایک امریکہ ہوائی اڈے پر کھڑے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نومبر 2006 میں امریکہ کی سینٹرل کمانڈ ایئر فورس نے افغانستان کی افواج کے لیے ‘میڈیئم لفٹ’ طیاروں کی ضرورت کو محسوس کیا۔ امریکی فضائیہ (یو ایس اے ایف) نے فیصلہ کیا کہ اٹلی کی فضائیہ کی طرف سے ریٹائر کیے جانے والے جی 222 طیاروں کو ایلینا نارتھ امریکا نامی ایک کمپنی کے ذریعے خریدہ جائے۔افغانستان سکیورٹی فورسز فنڈ (اے ایس ایف ایف) کے لیے مختص کی گئی رقم کو 30 ستمبر 2008 تک خرچ کرنے کی مدت ختم ہونے سے پہلے یہ ٹھیکہ دینے کی جلدی میں حکام نے متعلقہ قواعد ‘فیڈرل ایکوزیشن ریگولیش’ کو پسِ پشت ڈال کر ستمبر 2008 میں اس واحد کنٹریکٹر کو یہ ٹھیکہ دے دیا۔ان طیاروں کے بارے میں ہوا بازوں اور ان کی مرمت کرنے والے عملے کی طرف سے جلد ہی شکایتیں موصول ہونا شروع ہو گئی اور ایسے نقص اور خرابیاں سامنے آنے لگیں جن کی وجہ سے ان کے بارے میں سکیورٹی خدشات بھی ظاہر کیے جانے لگے۔ان طیاروں کی خریداری کے کنٹریکٹ میں کئی ایسی شقیں شامل تھیں جن کے تحت مذکورہ کمپنی کو طیاروں کی مکمل دیکھ بھال، مرمت، اضافی پرزہ جات اور ہوا بازوں کی تربیت میں بھی تعاون جیسی سہولیات فراہم کرنا تھیں۔ لیکن یہ پورا کنٹریکٹ طیاروں کو سنہ 2014 میں سکریپ کر کے فروخت کر دینے کی وجہ سے ختم کر دیا گیا۔انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی تحقیقات کے مطابق امریکی فوج کا ایک جنرل جو اب ریٹائرڈ ہو چکا ہے اس سودے کا ذمہ دار تھا اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اس کمپنی کے لیے کام کرنے لگا جس نے یہ طیارے فروخت کیے تھے۔رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ طیاروں کا یہ سودہ جس امریکی کمپنی سے کیا گیا اس کے بارے میں امریکی ایئر فورس کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا لیکن ان تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے ٹھیکہ اسی کمپنی کو دے دیا گیا۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ درجنوں تعمیراتی منصوبے جن میں سکول، ہسپتال اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانے شامل ہیں سرکاری سطح پر غفلت، استعمال نہ کیے جانے، غیر معیاری تعمیراتی کام یا جنگ کی وجہ سے یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا زبوں حالی کا شکار ہیں۔اسپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغان ریکنسٹرکشن کی فروری کے آخری ہفتے میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبے افغانستان کے صوبوں بغلان، بلخ، فرح، غزنی، ہرات، جوزگان، کابل، قندھار، خوست، قندوز، لغمان، نگرہار، نمروز، پکتیکا، پکتیہ اور پروان میں بنائے گئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبے ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس، یو ایس ایڈ اور اوور سیز پرائیویٹ انویسٹمنٹ کے تحت مکمل کیے جانے تھے۔ان منصوبوں میں سے بعض ایسے منصوبے بھی شامل ہیں جن کو مکمل تو کر لیا گیا لیکن وہ کبھی استعمال نہیں ہوئے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے یا ان کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا جن کے لیے وہ بنائے گئے تھے۔ کچھ منصوبے اس وجہ سے بھی ناکام ہو گئے کیونکہ انھیں مقامی لوگوں کی ثقافتی، سماجی، معاشی اور معاشرتی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں