0

افغانستان کی حکومت نے خواتین کی فوجی تربیت پر پابندی لگادی

 واقشنگٹن، کابل (مانند نیوز ڈیسک) افغانستان کی حکومت نے خواتین کی فوجی  تربیت پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پابندی کی دجہ  سے  جلال آباد میں 67 لاکھ ڈالر کی امریکی امداد سے قائم  علاقائی فوجی تربیتی مرکز  بے کار ہوگیا ہے۔ افغانستان کی تعمیر نو کے  لیے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ مالی امداد پر نظر رکھنے کے لیے بنائے گئے امریکی نگران ادارے سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ  نے انکشاف کیا ہے کہ  امریکی ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس نے  علاقائی فوجی تربیتی مرکز کے لیے67 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔۔ افغانستان کی حکومت نے خواتین کی تربیت پر پابندی لگا دی اور جب تک یہ پابندی اٹھا نہیں لی جاتی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔اس طری یو ایس ایڈ نے ہرات صوبے میں ایک سکول کی مرمت کی لیکن اس کے بعد بھی اس سکول کی عمارت کے ڈھانچے میں اس قدر داڑیں موجود تھیں اور اس میں بجلی کی تاریں اس قدر ناقص انداز میں لگائی گئیں کہ سکول کی عمارت کے اندر تعلیمی سرگرمیوں کا جاری رکھنا اساتذہ اور طالب علموں کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ تھا۔افغانستان کے صوبوں غزنی، ہلمند اور قندھار میں موبائل فون سروس اور افغانستان میں ٹی وی اور ریڈیو کی نشریات کے لیے 72 لاکھ ڈالر سے کمیونیکیشن ٹاور لگائے گئے۔ لیکن ان ٹاوروں کو چلانے کے لیے جو رقم درکار تھی اس کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگایا گیا اور جو رقم ان کو چلانے کے لیے مختص کی گئی تھی وہ ناکافی تھی جس کی وجہ ان ٹاوروں کو کبھی استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔افغانستان پر امریکی فوج نے سنہ 2001 میں فوجی یلغار کی تھی۔ طالبان کی حکومت کو ختم کرنے میں تو فوری کامیابی حاصل کر لی گئی لیکن طالبان کی مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکا، جو آج تک جاری ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں