0

پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج فوڈ سکیورٹی ہے، وزیر اعظم عمران خان

نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج فوڈ سکیورٹی ہے، ایک وقت تھا کہ ہم گندم ایکسپورٹ کرتے تھے اور گذشتہ دو سال کے دوران پہلے ہم نے 30لاکھ ٹن امپورٹ کی اور اس مرتبہ 40لاکھ ٹن گندم ہم نے امپورٹ کی، اور اسی طرح چینی بھی ہمیں اس مرتبہ امپورٹ کرنا پڑی، پہلے ہی ہم کھانے کا تیل اور گھی امپورٹ کرتے ہیں۔ ہمارا دوسر ا مسئلہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا ہے، ہم جو دنیا سے امپورٹ کرتے ہیں اور جو دنیا کو ایکسپورٹ کرتے ہیں اس میں بہت فرق ہے، اب کم ہو گیا ہے لیکن جب ہمیں حکومت ملی تھی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارہ تھا، ہم 60ارب ڈالرز کی امپورٹ کرتے تھے اور صرف20ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے تھے، ابھی ہماری ایکسپورٹس بڑھی ہیں اور ہم نے اپنی ایکسپورٹس کم کی ہیں،لیکن یہ بھی ہمارے لئے آگے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے نوشہرہ میں زیتون کی شجرکاری مہم کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کی پیدوار کا اثر صرف خیبر پختونخوا میں ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کااثر پورے پاکستان میں ہوگا، میں سب سے پہلے شرکاء کے سامنے پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز رکھوں گا، پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج فوڈ سکیورٹی ہے، ایک وقت تھا کہ ہم گندم ایکسپورٹ کرتے تھے اور گذشتہ دو سال کے دوران پہلے ہم نے 30لاکھ ٹن امپورٹ کی اور اس مرتبہ 40لاکھ ٹن گندم ہم نے امپورٹ کی، اور اسی طرح چینی بھی ہمیں اس مرتبہ امپورٹ کرنی پڑی، پہلے ہی ہم کھانے کا تیل اور گھی امپورٹ کرتے ہیں۔ آگے جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے اس کے لئے سب سے بڑا چیلنج فوڈ سیکیورٹی ہے، کہ ہم نے کیسے اپنی آبادی کو غذا دینی ہے، حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ہمارا دوسر ا مسئلہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا ہے، ہم جو دنیا سے امپورٹ کرتے ہیں اور جو دنیا کو ایکسپورٹ کرتے ہیں اس میں بہت فرق ہے، اب کم ہو گیا ہے لیکن جب ہمیں حکومت ملی تھی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارہ تھا، ہم 60ارب ڈالرز کی امپورٹ کرتے تھے اور صرف20ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے تھے، ابھی ہماری ایکسپورٹس بڑھی ہیں اور ہم نے اپنی امپورٹس کم کی ہیں،لیکن یہ بھی ہمارے لئے آگے بہت بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا تیسرا چیلنج ماحولیاتی تبدیلی ہے، پاکستان بدقسمتی سے ان 10ملکوں میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ ہماری بڑھتی ہوئی آباد ی ہے اور دنیا میں دوسری نوجوان آباد ی ہے، ان کو ہم نے نوکریاں دینی ہیں، روزگار دینا ہے اور یہ بھی بہت بڑا چیلنج ہے، ہمارے شہروں کے اندر بڑی تیزی سے آلودگی بڑھ رہی ہے یہ بھی چیلنج ہے۔ 10ارب درخت لگانے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی تبدیلی سے سخت خطرہ ہے۔یہ جو ہمارا 10ارب درخت لگانے کا چیلنج ہے اس سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کررہے ہیں،ہم ان کے مستقبل کو اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنارہے ہیں۔ جن کے بچے ہیں ان کو اپنے بچوں کے لئے شرکت کرنی چاہئے اور جو نوجوان ہیں ان کو اپنے مستقبل کے لئے 10بلین ٹری سونامی میں شرکت کرنی چاہئے۔ ساری دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی بہت بڑا ایشو بن گیا ہے لیکن ہمار ے ملک کو کیونکہ زیادہ خطرہ ہے اس لئے اس میں سب کو شرکت کرنی چاہئے۔ آج ہم اتنے بڑے علاقہ کے اندر زیتون کی کاشت کررہے ہیں اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں شجرکاری کررہے ہیں اور دوسرا مقصد یہ ہے زیتوں سے غیر ملکی زرمبادلہ آسکتا ہے،ہمارا منصوبہ ہے کہ پاکستان میں جہاں بھی زیتون لگ سکتا ہے لگائیں اور خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں لگ سکتا ہے۔دریائے سندھ کا رائٹ بینک سارا سلیمان رینج تک اور اوپرقبائلی علاقہ یہ سب سے بہتر علاقہ ہے  زیتون کے درختوں کے لئے اور  وہ علاقے بھی ایسے ہیں کہ وہاں کچھ اور اُگ بھی نہیں سکتا۔ یہ نیچے بلوچستان تک سارے بیلٹ کے اندر جہاں کوئی اور چیز نہیں اُگ سکتی وہ زیتون کے لئے بہترین علاقے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو بے شمار نعمتیں دی ہیں اور 12موسم دیئے ہیں لیکن ہم نے ان کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ ہم جن علاقوں میں زیتون کاشت کریں گے اُن علاقوں میں نوجوانوں کو روزگاردے سکتے ہیں، اس پراسیس کے اندر بڑے نوجوانوں کو نوکریاں مل سکتی ہیں۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہمارے ڈالرز بچیں گے اور ہم انہیں ایکسپورٹ کریں گے۔ہمارے ہاں سپین سے بھی زیادہ پوٹیشنل ہے اور ہم دنیا کے زیتون کے ٹاپ ایکسپورٹر بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پھلدار درختوں کو بھی 10بلین سونامی ٹری منصوبہ کے اندر شامل کرلیں گے اس سے بھی مقامی علاقوں کے اندر لوگوں کو روزگار ملے گا اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، پاکستان میں مختلف قسم کے پھلوں کے درخت اُگ سکتے ہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس حوالہ سے کبھی سوچا نہیں ہے، ہمارے پاس12موسم ہیں اور دنیا میں بہت کم ممالک ہیں جن کے پاس 12موسم ہیں۔ ہم جب سب سے اونچے پہاڑ سے سمندر تک جاتے ہیں تو مختلف ماحولیاتی زونز ہیں اور ان میں ہم مختلف قسم کے درخت اُگا سکتے ہیں جیسے زیتون۔ ہم پورے پاکستان میں زوننگ کریں گے اور ہدایت کریں گے کہ کس علاقہ میں کون سا ایسا پھل لگاسکتے ہیں جس سے لوگوں کی آمدنی میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتاہے۔ ہم سائنسی انداز میں بتائیں گے کہ کس علاقہ میں کون سا پودہ بہترین اُگتا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں