0

خطے میں امن کیلئے بھارت کو پہلا قدم لینا پڑے گا، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد  (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے بھارت کو پہلا قدم لینا پڑے گا،  مسائل ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہئیں،  ملک میں نیشنل سکیورٹی پر بحث کی بہت ضرورت ہے کیونکہ نیشنل سکیورٹی کے اہداف بہت وسیع ہیں۔  ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے دو روزہ اسلام آباد میں سکیورٹی ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہجب ہماری حکومت آئی تو ہم نے پوری کوشش کی کہ بھارت کے ساتھ جو ہمارا ایک ہی بنیادی مسئلہ کشمیر ہے ہم کیسے اس کو مذاکرات کے  ذریعہ حل کریں اور آپس میں مہذب ہمسائیوں کی طرح تعلقات قائم کریں لیکن بدقسمتی سے پانچ اگست2019آگیا اور اس سے بہت بڑا دھچکا پڑا اور دونوں ملکو ں کے درمیان مکمل طور پر بریک ڈاؤن ہو گیا۔ ابھی بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر بھارت کشمیریوں کو ان کا حق جو کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے دیا ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرے اگر وہ یہ حق دیتے ہیں تو یہ بھارت کے لئے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا پاکستان کے لئے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالاجاتا ہے تو یہ سارا علاقہ تبدیل ہو جائے گا اور اس سے دونوں ملکوں کو بہت فائدہ ہے، بھارت کو فائدہ اس لئے ہے کہ وہاں پر بہت غربت ہے، غربت کو ختم کرنے کے لئے سب سے ضروری ہمارے تجارتی اور معاشی  تعلقات مضبوط ہوں اور ہمارے خطہ کے اندر روابط بڑھیں۔ہم تو اپنی کوشش کریں گے لیکن بھارت کو پہلا قدم لینا پڑے گا، پانچ اگست 2019کے بعد جب تک وہ پہلا قدم نہیں لیتے تو ہم بدقسمتی سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس بحث کی بہت ضرورت ہے کہ اصل  میں نیشنل سکیورٹی کیا ہے، ہم اب تک نیشنل سکیورٹی کو صرف ان پوائنٹس سے دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی سکیورٹی فورسز کو جتنا مضبوط کریں گے اور فوج کو جتنا مضبوط کریں گے اتنا محفوظ ہوں گے لیکن درحقیقت نیشنل سکیورٹی کی چھتری کے نیچے ایسی ایسی چیزیں ہیں جو پہلے کبھی کوئی سوچتا بھی نہیں تھا، مثلاً ماحولیاتی تبدیلی، اس کی پانچ، چھ سال پہلے تو پاکستان میں کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا،ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ماحولیاتی تبدیلی ایک ایسی چیز ہے جو سب چیزوں کو  ماند کرسکتی  ہے، ہماری نسلوں کے لئے یہ اتنی خوفناک چیز ہورہی ہے جس کے حوالے سے مجھے فخر ہے کہ ہماری حکومت نے اس کے اوپر ایکشن لیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نیشنل سکیورٹی پر بحث کی بہت ضرورت ہے کیونکہ نیشنل سکیورٹی کے اہداف بہت وسیع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کے پیراڈائم میں تو پہلے کبھی آتا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 9/11کے بعد ہمارا ملک جس عذاب سے گزرا ہے اور جس طرح کی اس ملک کو سکیورٹی تھریٹ تھی، ہماری فوج، سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج نے بڑی قربانیاں دیں لیکن ہمیں محفوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے10ارب درخت لگانے کے منصوبہ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جارہا ہے، ہم ہر اس ملک کے ساتھ شامل ہوں گے جو پیرس معاہدہ کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گا،مجھے بڑی خوشی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے گذشتہ چار سال کی پالیسیوں کو ختم کیا اور وہ بھی اب ماحولیاتی تبدیلی کے معاملہ میں مکمل طور پر شرکت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوڈ سکیورٹی بھی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے، ہم اس بات کااحساس ہی نہیں کررہے کہ جتنی تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور ہم نے رواں سال پہلی مرتبہ 40لاکھ ٹن گندم درآمد کی ہے۔ ہم ایک نئی سوچ لے کر آرہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی فوڈ سکیورٹی کو کیسے محفوظ بنانا ہے، دو سال میں ہمیں جس چیز کا سامنا کرنا پرا اس سے احساس ہوا کہ قوم سوچ ہی نہیں رہی کہ ہمیں آئندہ فوڈ سکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہو گا، ہمارے حکومتی اداروں میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ یہ بھی صحیح اندازہ لگا سکیں کہ ہماری گندم کی پیداوار کتنی ہو گی جو بھی تخمینے لگائے ہوئے تھے وہ سب غلط نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم نے سب سے زیادہ زور اس بات پر لگانا ہے کہ ہم نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے فوڈ سکیورٹی کو کیسے یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری معیشت بھی ایک اہم مسئلہ ہے، ہمارے ملک میں جو ڈالرز آتے ہیں ا ور جو ڈالرز باہر جاتے ہیں ان میں روایتی طور پر بہت بڑا فرق رہا ہے، یہ خسارہ براہ راست ہماری کرنسی کو متاثر کرتا ہے اور جب کرنسی متاثر ہوتی ہے تو سب چیزیں متاثر ہو جاتی ہیں، سب سے پہلے کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں،تیل کی قیمت بڑھی ہے، بجلی کی قیمت بڑھتی ہے اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں اور60فیصد دالیں ہم امپورٹ کرتے ہیں ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، کھانے کا تیل باہر سے منگواتے ہیں اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے، یہ سب چیزیں متاثر ہوتی ہیں تو اس کا نتیجہ آخر میں غربت کی صورت میں سامنے آتا ہے، ہمارے ملک میں غربت بڑھ جاتی ہے۔ نیشنل سکیورٹی ہو ہی نہیں سکتی جس ملک میں تھوڑے سے امیر لوگ ہوں اور غریبوں کا سمندر ہو، کبھی بھی وہ ملک محفوظ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ ملک وہ ہوتا ہے جس میں سب یقین رکھتے ہوں کہ یہ ہماری حکومت ہے اور یہ ہمارا ملک ہے، ہمارا بھی اس ملک کے اندر اسٹیک ہے، جب تک لوگ اپنے ملک کو اون نہیں کرتے وہ ملک محفوظ نہیں ہوتا، فوج صرف محفوظ نہیں بناسکتی۔ نیشنل سکیورٹی کا مطلب ہے کہ ایک قوم کھڑی ہوجاتی ہے اور اس کو ملک کو بچانے کے لئے اس کا اسٹیک ہوتا ہے،ہم نے وہ کرنا ہے جو کہ اصل میں چین نے کیا تھا،میں جب بھی چین گیا ہوں میں نے بریفنگز لی ہیں کہ یہ معجزہ کیسے ہوا، یہ دنیا کی تاریخ میں کبھی ہوا ہی نہیں ہے کہ انہوں نے گذشتہ30یا35سالوں میں 70کروڑ لوگوں کوغربت سے نکالا۔ حال ہی میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہم نے چین میں انتہائی غربت ختم کردی ہے اور اس کی انہوں نے خوشی منائی۔ کوئی چین کو پسند کرے یا نہ کرے یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کی ہم سب کو تعریف کرنی چاہئے اور یہ سب سے زیادہ سکیورٹی ملک کو دیتی ہے کہ ملک کا ہر انسان سمجھے کہ حکومت ہماری بھی فکر کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں 25فیصد لوگ شدید غربت کا سامنا کررہے ہیں اور25فیصد ایسے لوگ ہیں کہ اگر انہیں تھوڑی سی پریشانی آتی تو وہ بھی غربت کے نیچے آجاتے ہیں،ہماری سب سے زیادہ یہ ہونی چاہئے کہ ہم نے ان لوگوں کو غربت سے کیسے اوپر لے کر آنا ہے، ہمارا احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ میں غربت کے خاتمہ کا سب سے جامع پروگرام ہے،چین میں وہ پوری کی پوری آبادی کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کردیتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کرسکتے اور چین کی عوام بھی یہ یقین رکھتی ہے کہ حکومت ہماری بہتری کے لئے کررہی ہے، اب ہم ایک نیا پروگرام شروع کرنے جارہے ہیں اور توقع ہے کہ پوری دنیا اس پروگرام کو سراہے گی، اس پروگرام کے تحت ہم آدھی سے بھی زائد آباد ی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، یہ بہت بڑا انقلا ب ہو گا اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی معیشت کی شرح نمو کو بڑھانا ہے، جب تک خطہ میں امن نہیں ہو گا، ہمارے علاقے میں اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اور تجارتی تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے تو اس وقت تک ہم پاکستان  کے جغرافیائی محل وقوع کا پوری طرح  فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اگر علاقہ میں امن آجائے تو اس سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا کیونکہ ہم چاروں طرف منسلک ہیں۔ ہم دنیا کی دو بڑی مارکیٹس سے منسلک ہیں، چین کے ساتھ تو ہم منسلک ہیں اور بھارت کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین سے ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور مزید بہتر ہوتے جاتے ہیں، افغانستان میں بڑی دیر کے بعد امن کی امید ملی ہے اور یہ بہت دیر کے بعد موقع آیا ہے، ہم نے افغانستان میں امن کے لئے پوری کوشش کی ہے لیکن چیلنجز ہیں، امریکہ میں نئی انتظامیہ آئی ہے، یہ بھی اب اسی راستہ پر چلی گئی ہے کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ 20سال جنگ چلی ہے اور یہ اور آگے نہیں چلنی چاہئے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں