0

قائمہ کمیٹی کا عورت مارچ میں لگنے والے نعروں، مطالبات پر اظہار برہمی

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے عورت مارچ میں لگنے والے نعروں اور مطالبات پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔مولانا اسعد محمود کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے عورت مارچ میں لگنے والے نعروں اور مطالبات پر اظہار برہمی کیا۔چیئرمین کمیٹی مولانا ا سعدمحمود نے کہا کہ جو پلے کارڈز نظر آئے ان پر ایک بات بھی اسلام سے منسلک نہیں تھی، جو نعرے لگائے گئے وہ دہرائے بھی نہیں جا سکتے۔رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان خواتین کی ویڈیوز وائرل ہیں۔ رکن شگفتہ جمانی نے بتایا کہ عورت مارچ کا مقصد یہ نہیں کہ بے حیائی پھیلائی جائے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ اس بے حیائی پر حکومت سو رہی ہے اور عدالتیں بھی خاموش ہیں۔کمیٹی نے وزارت داخلہ سے عورت مارچ میں شامل این جی اوز کی فہرست طلب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی دیکھاجائے کہ ان این جی اوز کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔کمیٹی نے وزارت داخلہ کو معاملے کی چھان بین کے لئے خط لکھنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا۔اجلاس میں توہین رسالت اور غیر اسلامی تصانیف یا اس جیسے مواد کی پرنٹنگ سے متعلق حکومتی اتھارٹی نہ ہونے پر بھی بحث ہوئی۔چیئرمین کمیٹی مولانا اسعد محمود نے استفسار کیا کہ کیا ہمارے ملک میں ایسی کوئی اتھارٹی ہے جو متنازعہ تصانیف اور تحاریر کا جائزہ لیکر کارروائی کرے۔ دودھ، پانی سمیت ہر چیز کی چھان بین اور غلطی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے اتھارٹیز بنی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن و حدیث اور دینی مواد کو غلط انداز میں پیش کرنے سے متعلق کوئی اتھارٹی نہیں۔ کمیٹی نے دینی مواد کے غلط استعمال سے متعلق اتھارٹی قائم کرنے کے لئے بل لانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں