0

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں، آرمی چیف

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں، وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے مستقبل کی جانب بڑھیں، ہمارے ہمسائے کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا کیونکہ مستحکم پاک و ہند تعلقات مشرقی اورمغربی ایشیا کو قریب لاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں منعقد ہ نیشنل سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے، آج دنیا کو مختلف طرز کی دہشتگردی کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں سکیورٹی خطرات کے باوجود دفاع کے اوپر کم خرچ کررہا ہے، سکیورٹی پر اخراجات بڑھانے سے انسانی ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے جب کہ جارح پڑوسی کے باجود پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور پاکستان اکسانے کے باوجود ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہمارے عزم کی عکاس ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کررہا ہے، پاک افغان بارڈر پر مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا گیا جب کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ پاکستان کی کوششوں سے ہوا، خطے میں قیام امن سے دیگر ممالک کی خوشحالی جڑی ہے، پاکستان کی جیو پولیٹیکل حیثیت خطے میں معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے، خطے میں امن ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی اور تمام ممالک امن سے رہ سکیں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور خطے میں امن کے لیے  پرامن طور پر مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، اس کے حل کے بغیرجنوبی ایشا میں امن نہیں آسکتا، وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے مستقبل کی جانب بڑھیں، ہمارے ہمسائے کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا کیونکہ مستحکم پاک و ہند تعلقات مشرقی اورمغربی ایشیا کو قریب لاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کو یقینی بنانا صرف افواج کا کام نہیں، نیشنل سکیورٹی کثیر الجہتی ہوتی ہے اس میں قوم کا اہم کردار ہوتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دی جارہی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ دنیا نے ورلڈ وار اور کولڈ وار کے اثرات دیکھے، گذشتہ سالوں کے ناکام تجربات کے حوالے سے بات کرناغیر منطقی ہے، ہم نے ماضی سے سیکھا ہے اور آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں، غیر حل شدہ تنازعات غربت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں،  جنوبی ایشیا میں دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اہم اقتصادی منصوبہ ہے لیکن پاکستان کو صرف سی پیک کی آنکھ سے دیکھنا غیر منطقی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں