0

۔25 سال پرانے منصوبے کو حقیقت میں بدلنا بڑی کامیابی ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ،25 سال پرانے منصوبے کو حقیقت میں بدلنا بڑی کامیابی ہے،نیا پاکستان درحقیقت نئی سوچ کا نام ہے، جب ہماری ملکی دولت میں اضافہ ہو گا تو ہمارے ملک کے اوپر جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں ان کی قسطیں اداکر نے کی ہماری صلاحیت بڑھے گی۔کنسٹرکشن انڈسٹری ایک ایسا سیکٹر ہے جو اکیلا ہی پاکستان کی معیشت کو بھی اٹھا سکتا ہے، لوگوں کو روزگا بھی دے سکتا ہے او ر ہمارے ملک میں دولت میں اضافہ کرسکتا ہے تاکہ ہمارے اوپر جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں ہم ان کو واپس کرنا شروع کریں۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے محنت کش طبقہ میں گھروں اورفلیٹس الاٹ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے تحت 1000فلیٹس اور500گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ قرعہ اندازی کے ذریعے یہ فلیٹس اور مکانات محنت کش طبقہ کے افراد میں تقسیم کئے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے محنت کش افراد  میں فلیٹس اور گھروں کی چابیاں تقسیم کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں سب سے پہلے زلفی بخاری اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے اند ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، 25سال پرانے منصوبہ کو دوبارہ زندہ کرکے ایک حقیقت بنادیا اور لوگوں کے لئے فلیٹس اور گھر تیار کردیئے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25سال سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اس بات ترجیح بنائیں کہ ہم ان لوگوں کے لئے گھر بنائیں جو کبھی بھی اپنا گھر نہیں خرید سکتے، ہم سب چیزوں کا سوچتے تھے لیکن اس طبقہ کا ملک میں کبھی نہیں سوچا، جب ہم نیا پاکستان کہتے ہیں تو یہ نئی سوچ کا نام ہے، ایک نئے مائنڈ سیٹ کا نام ہے،نئے پاکستان کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نہیں بلکہ ایک ملک یہ فیصلہ کرے کہ ہم نے اپنے اس طبقہ کو جو کمزور ہے، جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے ہم نے اس کو اوپر لے کر آنا ہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، حکومت سب سے پہلے اپنے اقدامات سے یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک نئی سوچ اور ایک نیا طرز حکومت لے آئی ہے، یہ ہم کسی پر کوئی احسان نہیں کررہے، یہ ورکرز اور محنت کش لوگوں کا حق ہے،پہلے یہ گھر ورکرز کو کرائے پر ملتے تھے اب یہ ان کے اپنے گھرہیں جو کرایہ ہو گا وہ قرضوں کی قسط میں چلا جائے گا اور وہ گھر بھی ان کی اپنی ملکیت ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنا گھر ہونا سب سے بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے، اب ہم ایک نیا قانون لے آئے جس کے تحت بینک پہلی مرتبہ قرضے دے سکتے ہیں اور ہمیں اس قانون کو عدالت سے کلیئر کرانے میں دو سال لگے ہیں، قانون کا نام ہے فورکلوژر لاء، جب تک ہم اس قانون کو عدالت سے کلیئر نہیں کراتے تھے بینک قرضے ہی نہیں دیتے تھے جو ہم نے لوگوں سے گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا اگر اس میں تاخیر ہوئی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ دو سال کے بعد وہ فورکلوژر قانون عدالت سے کلیئر ہوا۔ اب ممکن ہے کہ بینک قرضے دیں گے اس کو مورگیج کہتے ہیں، یہ کبھی بھی ہم نہ کرسکیں اگر اس میں بینک شامل نہ ہوں، میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو پھر سے تاکید کرتا ہوں کہ سارے نجی بینکوں کو جنہوں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ انہوں نے گھروں کے مورگیج کے لئے380ارب روپے رکھے ہوئے ہیں وہ لوگوں کے لئے آسانی کریں کہ ایک عام آدمی کے لئے قرضہ لینا آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے تحت ہر فلیٹ پر حکومت تین لاکھ روپے سبسڈی دے رہی ہے تاکہ لوگوں کے لئے ہر ماہ قرضے کی قسط دینا آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پانچ فیصد سے اوپر سود نہ جائے، 20سال تک سود کی شرح یہی رہے گی، بے شک ملک میں سود کی شرح بڑھ بھی جائے لیکن لوگوں کو پانچ فیصد سے زائد سود نہیں دینا پڑے گا، لوگوں کے پاس آئندہ 20سال تک موقع ہو گا، قرضوں کی قسطیں دینے کا۔ 1500فلیٹس آج تقسیم کررہے ہیں ا ور اگلے فیز میں 1500مزید فلیٹس تقسیم کئے جائیں گے اور پھر پشاور میں اور ساری جگہ کام شروع ہو گیا ہے، نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے سربراہ کو لوگوں کو بتانا چاہئے کہ پاکستان میں کہاں، کہاں نیا پاکستان منصوبہ کے تحت ہاؤسنگ شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اس طبقہ کو جس کے پاس گھر لینے کے لئے کبھی بھی کیش نہیں ہوتا اس طبقہ کے لئے گھروں کی فراہمی کا آغاز ہو گیا، جیسے جیسے حکومت کی آمدنی بڑھتی جائے گی ہم اور زیادہ پیسہ اس ہاؤسنگ کے اوپر لگاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کا کوئی امیر ترین ملک بھی گھر بنا کر نہیں بانٹ سکتا، ہم لوگوں کے لئے یہ آسانیاں پیدا کررہے ہیں کہ جو لوگ کرایہ دیتے ہیں اسی کی جگہ وہ اپنے مکان کی قسطیں دیں گے اور20سال تک قسطیں دیتے جائیں اور گھر آپ کا اپنا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ پاکستان میں کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ ہر ہفتے کنسٹرکشن کی میں خود میٹنگ کرتا ہوں، آج پاکستان میں  اس کے باوجود کہ ساری دنیا کوروناوائرس کی وجہ سے ساری دنیا متاثر ہوئی اور ساری دنیا کے اندر ان کی معیشت کو نقصان پہنچا، اگر آج پاکستان بچا ہوا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ کنسٹرکشن کی انڈسٹری ہے جو آج سب سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ آج سیمنٹ کی قیمتیں اوپرچلی گئی ہیں کیونکہ سیمنٹ کی کمی ہو گئی، آج اگر سریے کی قیمت اوپر چلی گئی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری چل پڑی ہے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کی وجہ سے ملک میں سب سے زیادہ روزگا رملتا ہے، ہماری نوجوان آبادی ہے اور ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روزگا ر کا ہے اس سے روزگار بھی ملے گا اور اس سے پھر ملک کی دولت میں اضافہ ہو گا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں