0

ملک اس لئے نہیں بنا تھا کہ زرداری اور شریف امیر بنیں، عمران خان

 مالاکنڈ (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک اس لئے نہیں بنا تھا کہ زرداری اور شریف امیر بنیں،ملک کاپیسہ چوری کرنے والوں کو پتا ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے۔یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القادر یونیورسٹی رواں برس ستمبر میں شروع ہوگی، جس کے لیے میں نے دنیا کے بڑے اسلامی اسکالرز کو آن بورڈ لیا ہے، میری کوشش یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی سے اپنی قوم کو ایک ایسی انٹیلیکچوئل لیڈر شپ دوں کہ جو لوگوں کو سمجھائے کہ اللہ پاک نے ہمیں کیوں پیدا کیا، ہمارا دنیا میں مقصد کیا ہے، جب اس دنیا سے واپس جائیں گے تو ہمارا کیا ہوگا اور اللہ پاک نے جتنے پیغمبر دنیا میں بھیجے ان کا مقصد انسانوں کو یہی سمجھانا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک جانور دنیا میں آتا ہے کھاتا پیتا ہے بچے پیدا کرتا ہے اور مر جاتا ہے اور اگر انسان بھی دنیا میں آکر کھائے پئے، بچے پیدا کرے اور اپنے لیے پیسہ بنائے تو اس میں اور جانور میں زیادہ فرق نہیں رہ جاتا، انسان اللہ کی سب سے عظیم مخلوق ہے اللہ نے فرشتوں کو انسان کے سامنے جھکنے کا حکم دیا۔انہوں  نے کہا کہ دنیا میں افراتفری مچی ہوئی ہے، لالچ ہے، پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں کہ جیسے پیسے سے خوشی آجائے گی، نیویارک ٹائمز میں ایک بہترین ماہر نفسیات کی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ان کے مریضوں کی دولت جتنی بڑھتی رہیں اتنی ان کی خوشی کم ہوتی گئی۔ یعنی خوشی اور دولت کا بلاواسطہ رابطہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں اتنے بڑے بڑے اربوں پتی ہیں کہ جنہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسا ہے 30 سال اس ملک کا پیسہ چوری کیا ہے لیکن لعنت ہے ایسے پیسے پر کہ بچے بھی جھوٹ بول رہے ہیں، خود بھی جھوٹ بول رہے ہیں، کبھی ہسپتال تو کبھی جیل جارہے ہیں یہ ہمارے لیے عبرت ناک چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ خوشی اس بات سے ملتی ہے کہ آپ 5 وقت نماز پڑھیں اور دعا کریں کہ اللہ مجھے اس راستے پر لگائے کہ جنہیں تو نے نعمتیں بخشیں،ان کے نہیں کہ جو اپنی تباہی کے راستے پر نکل گئے، پوری زندگی یہ دو راستے آتے ہیں جس میں سے ایک خوشی کا اور دوسرا تباہی کا ہے، ایک راستہ آسان راستہ نہیں مشکل ہے، اللہ نے زیادہ نعمتیں اپنے پیغمبروں کو بخشیں لیکن کسی بھی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں تھی، قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمجھتے ہو وہ اچھا ہے اور جسے اچھا سمجھتے ہو وہ برا ہے مطلب یہ کہ ہم اکثر آسان زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن وہ انسانی کی صلاحیت کو تباہ کردیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زندگی میں شارٹ کٹ لے لیتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اپنی زندگی میں شارٹ کٹ لے کر بڑا کام نہیں کیا، اگر اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جن سے اللہ کو سب سے زیادہ محبت ہے انہیں 13 سال مشکل وقت سے گزارا تو ہمارے لیے تو برا نہیں ہوگا،نبوت کے 10 سال بعد تک صرف 40 لوگ مسلمان تھے لیکن نبوت کے 23 سال کے بعد جو انقلاب آیا دنیا کی تاریخ میں ایسا انقلاب نہیں آیا، اس لیے میں القادر یونیورسٹی بنا رہا ہوں کہ ہم مطالعے کریں کہ عرب جن کے پاس طاقت نہیں تھی جو تقسیم تھے ان کے پاس ایسی کیا چیز تھی کہ  دنیا کی 2 بڑی سپر پاورز ان کے سامنے گٹھنے ٹیک گئیں۔ انہوں نے وہ تہذب قائم کی جو سب سے عظیم تہذیب تھی جس میں علم کو ترقی دی گئی جس کی وجہ سے یورپ اور مغرب آگے بڑھا،القادر یونیورسٹی کا مقصد ہے یہ اسلام کے خیالات کو ترقی دیں، ہمارے دانشور آئیں اور بتائیں کہ ملک بنا کیوں تھا، اگر یہ ملک بنناتھا کہ ٹاٹا برلا کی جگہ شریف اور زرداریوں نے امیر ہونا تھا تو اس کا کوئی مقصد نہیں تھا، علامہ اقبال کا واضح موقف تھا کہ یہ ملک دنیا کے لیے مثال بنے گا کہ اصل میں اسلام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ٹیکنیکل تعلیم انتہائی ضروری ہے کیوں کہ ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ تعلیم ہمیں آگے لے کر جائے گی،ہمارے نوجوان کو جب تک ٹیکنیکل تعلیم نہیں ملے گی اسے روزگار نہیں ملے گا اور دنیا میں وہ معیشت اوپر جاتی ہے جو نالج اکانومی ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا میں یہ بہت بڑی غلطی کی کہ ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور نہ ہی تکنیکی تعلیم پر اتنا زور دیا ہے یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں، ایک دنیا میں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے دوسری تعلیم بتاتی ہے کہ دنیا میں ہمارا مقصد کیا ہے، یونیورسٹی کی تعلیم کا معاشرے پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 120 برس قبل امریکا نے ترقی کی کرنا شروع کی تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا میں سب سے زیادہ گریجویٹس امریکا میں نکل رہے تھے جب آپ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی آبادی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ خودبخود ملک کو ترقی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50سال کے بعد 2 بڑے ڈیمز بنا رہے ہیں، تعمیری انڈسٹری کو تاریخی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، صنعتوں کی ترقی سے ملک کی ترقی مشروط ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہورمیں راوی سٹی کے نام سے نیا شہر بنا رہے ہیں، راوی سٹی سے کئی ہزار ارب کی دولت آئے گی، راوی سٹی سے کئی ہزار ارب کی دولت آئے گی، ہماری توجہ زراعت کے شعبے پر توجہ مرکوز ہے، ڈیم سے ڈی آئی خان میں تین لاکھ ایکڑ زمین کاشت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کیدائیں کنارے زیتون کے درخت لگانے کے لیے بہترین جگہ ہے، نیا پاکستان کہتا ہوں اس کا مطلب سوچ کوتبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑے مشکل حالات سے نکلے ہیں، ملک مقروض تھا، جب حکومت میں آئے تو قرضوں کی ادائیگی کیلئے پیسے نہیں تھے، دوست ممالک نے مدد کی، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا، دوست ممالک نے مدد کی اور ہم نے قرضوں کی اقساط ادا کیں، اگر ملک ڈیفالٹ ہو جاتا تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کیا حالات ہوتے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی انڈسٹری کو تاریخی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں