0

جمرود پویس ہمارے گھر پر غیرقانونی اور بغیر لیڈی کا نسٹیبل کے چھاپے مارے جارہے ہیں، نعمان

جمرود (مانند نیوز ڈیسک) ضلع خیبر کی تحصیل جمرودکے علاقہ علی مسجدسے تعلق رکھنے والا نعمان نامی شخص نے اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ جمرودپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے علی مسجدمیں پولیس کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکارشہید ہوا ہے اس واقعہ کا قصوروارمیرے بھائی کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو مجرم ٹھہرانا عدالت کا کام ہے اور اگر پھر بھی عدالت میرے بھائی کو مجرم ٹھہرائے تو متعلقہ پولیس اس کے خلاف کاروائی کریں نہ کے ہمارے گھرمیں گھس کر عورتوں اور بچوں کو زدوکوب کریں اور فائرنگ کریں یہ کہاں کا انصاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ اوجمرودامجد کی سربراہی میں دودفعہ پولیس اہلکاربغیرکسی لیڈی کانسٹبل کے گھر میں گھس آئے ہیں اور عورتوں اور بچوں کو زدوکوب کرکے اور ان پر فائرنگ کرچکے ہیں سب کو دھمکیاں دے کر چلے جاتے ہیں جبکہ میرے ایک بے گناہ بھائی شیراز کو بھی فراربھائی کی جگہ پر حراست میں لے لیا ہے اگرچہ فاٹا انضمام کے بعد ایف سی آر کا قانون ختم ہوچکا ہیں جو ایک مطلوب شخص کی جگہ پر ان کے رشتہ دارکو بھی گرفتارکیا جاتا تھالیکن یہاں کی پولیس نے میرے بے گناہ بھائی کو گرفتارکرکے ایف سی آرقانون کی روایت کو برقراررکھے ہوئے ہیں جو سراسرناانصافی ہیں۔انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ ایس ایچ او جمرودکے خلاف کاروائی کی جائے اور لیڈی کانسٹبل کے بغیراور غیرقانونی چھاپوں سے روکا جائے اور میرے بیگناہ بھائی شیراز کو رہاکیا جائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں