0

چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پریذائیڈنگ آفیسر سید مظفر حسین شاہ کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے مشترکہ امیدوار مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مستردکرنے کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالہ سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے سینیٹر فاروق حمید نائیک نے پیش ہو کردلائل دیئے۔فاروق نائیک نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں پریذائیڈنگ آفیسر کی جانب سے سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف قانون سات ووٹ مسترد کئے گئے، سید یوسف رضا گیلانی کے پاس واضح اکثریت تھی اور انہیں زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن پریذائیڈنگ آفیسر نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے ووٹ مسترد کئے اور انہیں ناکام ہونا پڑا اور میر محمد صادق سنجرانی کو کامیاب قراردیا گیالہذا یہ تمام تر کارروائی خلاف قانون ہے اور کالعدم قراردیا جائے اور سید یوسف رضا گیلانی کو کامیاب قراردیا جائے۔ فاروق نائیک نے کہاکہ پریذائیڈنگ آفیسر نے جو سات ووٹ مسترد کئے ان پر مہریں خانوں کے اندر ہی لگی تھیں، ووٹر کسے ووٹ دینا چاہتا ہے صاف ظاہر تھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فاروق نائیک سے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن یا کوئی ادارہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ملوث ہوتا ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے کہاکہ اس الیکشن میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم پھر آرٹیکل 69سے باہر کیسے نکلیں گے، کیا پارلیمنٹ کے استحقاق اور بالادستی کو نہیں دیکھنا چاہئے؟اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ یہ آرٹیکل بزنس آف ہاؤس او ر پروسیجر کو چیلنج کرنے سے منع کرتا ہے،12مارچ کو بزنس آف ہاؤس یا پروسیجر ہوا ہی نہیں صرف الیکشن ہوا تھا، ہم بزنس آف ہاؤس اور پروسیجر کو چیلنج ہی نہیں کررہے، ہم ان سات ووٹوں کو چیلنج کررہے ہیں جنہیں غلط مسترد کیا گیا۔اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے فاروق نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نائیک صاحب کیا کبھی کسی عدالت نے ایسا کیس سنا ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چیلنج کیا گیا ہے۔ فاروق نائیک نے جسٹس اطہر من اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو بھی فیصلہ دیں گے وہ ایک تاریخی فیصلہ ہو گا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا کیا طریقہ کار ہے؟اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو صرف عدم اعتماد سے ہٹایا جاسکتاہے، ہم نے ابھی الیکشن کے پراسیس کو چیلنج کیا ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی یہی ہوا تھا؟ اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین کے کیس میں صورتحال مختلف ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ پر غیر ضروری تنقید یہ عدالت نہیں کرتی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فارق نائیک سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی سینیٹ میں کمیٹی ہے جو اس معاملہ کو دیکھ سکے؟اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار نہیں کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹا سکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ قومی سطح کے مسائل حل کرنے کا فورم ہے، کیا یہ اپنا معاملہ حل نہیں کرسکتی؟چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کی خود مختاری کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتی ہے۔ اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ جب راستے بند ہوجائیں تو آئین خود راستہ نکالتاہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اکثریت حاصل تھی؟اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن کے روز اور آج بھی اکثریت حاصل ہے۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے پاس اکثریت ہے تو وہ صادق سنجرانی کو ہٹا سکتے ہیں۔ فاروق نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی درخواست کو منظور کرکے سید یوسف رضا گیلانی کو کامیاب قراردیا جائے اور انہیں چیئرمین سینیٹ تعینات کیا جائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں