0

سپریم کورٹ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کردیا

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم دے دیا۔جمعرات کو چیف آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے اور دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کر انے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار روں اسد علی خان اور چوہدری دانیال عزیز اپنے وکلاء محمد نوازش علی پیرزادہ ایڈووکیٹ  اور زاہد سلطان خان منہاس کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، اور چاہتی ہے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، معاملہ ابھی مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا باقی صوبوں میں بلدیاتی انتخاب ہورہے ہیں؟۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان نے جواب دیا کہ باقی صوبوں کا مردم شماری پر اعتراضات ہیں، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس چوبیس مارچ کو ہونا تھا، وزیراعظم کو کورونا کی وجہ سے اب اجلاس 7 اپریل کو ہو گا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں صوبے مئی میں بلدیاتی انتخاب کر ا دیں۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ یہ صرف وفاق کا نہیں بلکہ صوبوں کا بھی معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پنجاب کی لوکل حکومتوں کو کیوں ختم کیا گیا؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کی ٹرم بھی ابھی ختم ہو گئی ہو گی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر 2021تک تھی، 2018انتخابات کے بعد پنجاب اور وفاقی میں نئی جماعت کی حکومت آئی، نئی پنجاب حکومت نے بلدیاتی حکومتیں تحلیل کر کے ایک سال میں الیکشن کرانے کا وقت دیا، ایک سال کی مدت گزرے کے بعد پنجاب حکومت نے نئی ترمیم کی اور پھر آرڈیننس جاری کیا۔جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ باقی صوبوں میں بلدیاتی حکومتوں نے اپنی مدت کو پورا کیا؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے سامنے پنجاب کا 2019 کا بلدیاتی قانون چیلنج کیا گیا، کیا درخواست گزار چاہتا ہے قانون کے سیکشن تین کو کالعدم کر دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنایا جا سکتا ہے لیکن اداروں کو ختم نہیں کر سکتے، کسی نے ایکٹ لانے کا غلط مشورہ دیا ہے،حکومت کی ایک حیثیت ہوتی ہے چاہے وہ وفاقی ہو، صوبائی یا بلدیاتی ہو، اختیار میں تبدیلی کر سکتے ہیں، بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔۔ عدالت نے کہا کہ   پنجاب کی بلدیاتی حکومتیں بحال کی جائیں،عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کیا، ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر انہیں گھر بھجوا نے کی اجازت نہیں دے سکتے۔عدالت نے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دے کر پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں