0

دریائے سوات سے متعلق اہم اجلاس

سوات (مانند نیوز ڈیسک) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کے زیر صدارت دریائے سوات کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کمشنر افس سیدو شریف میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری منرلز ڈیپارٹمنٹ نظر شاہ، ڈائریکٹر جنرل ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات ڈاکٹر احمد علی خان، ڈی جی ڈی ٹی ایس اسلام سعید، ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان، ڈپٹی کمشنر بونیر نصراللہ، ڈائریکٹر انڈسٹریز جوہر علی شاہ، ایکسن ایریگیشن وسیم ملک، اے ڈی سی ملاکنڈ انوارلحق اور مائینز اینڈ منرلز، انڈسٹریز، ایریگیشن، ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات اور سوات، بونیر اور ملاکنڈ ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں دریائے سوات کی خوبصورتی اور قدرتی حسن کی بحالی سے متعلق اقدامات اور امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو ایجنسی برائے تحفظِ ماحولیات انڈسٹریز، مائنز اینڈ منرل، ایریگیشن اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ فورم کو دریائے سوات کے اردگرد تجاوزات کے خاتمے، فضلاء کو دریا برد کرنے کی روک تھام، غیر قانونی کھدائی اور صنعتوں سے خارج ہونے والی فضلاء اور دیگر ماحولیاتی پہلوؤں پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے دریائے سوات کے قدرتی حسن اور ساخت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ ہر قسم کی غیر قانونی حرکات جس سے دریا کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو فورا ًبند کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکموں اور انتظامیہ نے اب تک جو اقدامات اٹھائے ہیں اور مختلف قسم کی پابندیاں لگائی ہیں اس حوالے سے بھی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ پھر ایسی کوئی حرکت کرتے ہوئے ماحول دشمنی کا مرتکب نہ ہو۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام اور کاروباری کوشش کی حوصلہ شکنی کی جائے جس سے دریائے سوات، ضلع سوات،بونیر اور ملاکنڈ جیسے خوبصورت اضلاع میں ماحول، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی حسن کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات کو خصوصی ہدایات جاری کیں اور ان کا کہنا تھا کہ اضلاع میں تحفظ ماحولیات اجازت نامے کے بغیر کسی بھی ترقیاتی، صنعتی اور کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحول اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں ضلع بونیر کے لئے مجوزہ ماربل سٹی منصوبے پر بھی گفتگو کی گئی اور اس کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں