0

ضلع مردان میں خواتین پر تشدد کے حوالے جذبہ پروگرام کے زیر اہتمام

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون رکن خیبر پختو نخوا اسمبلی شاہدہ وحید نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی تحریک کوئی بڑی جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین شامل نہ ہوں،ہرکامیاب مردکے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے پاکستان کے آئین میں بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے مگر تاحال بہت سارے اقدامات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے،ان خیالات کا اظہار  انہوں نے مردان میں غیر سرکاری تنظیم شرکت گاہ کے تعاون ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ پاکستان جذبہ پروگرام کے زیر اہتمام  خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے  ڈائیلاگ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا،اجلاس سے جذبہ پروگرام کی کوار ڈنیٹر نصرت آراء نے بھی خطاب کی،اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے یوسف شاہ آریانی ایڈوکیٹ،پاکستان تحریک انصاف کے صائمہ امانت مسیح،سید عثمان ایڈوکیٹ،محمد پرویز،قومی وطن پارٹی کے عامر شوکت ایڈوکیٹ،جمعیت علماء اسلام  کے فیاض الاسلام، ناصرہ،عوامی ورکرز پارٹی کفایت ایڈوکیٹ،ریحانہ شکیل،اے این پی کے محمد اشتیاق، مردان وومن چیمبر آف کامرس کی صدر زاہدہ افتخار اور سو ل سو سائٹی کے ممبران نے شرکت کی اور ایم پی اے کو تجاویز پیش کیں۔نصرت آراء نے سال دو ہزار بیس کی رپورٹ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ضلع مردان میں گزشتہ سال جنوری تا دسمبر تک خواتین پر تشدد کے حوالے سے  1983 ایف آئی آر درج کی گئی  ہے جبکہ اس کے علاوہ  ایسے بہت سے واقعات ہیں جو گھر کا معاملہ سمجھ کے نہ تو انکی ایف آئی آر ہوتی ہے اور نہ ہی  میڈیا پر آتا ہے۔تشددسے پاک معاشرے کے لیے تربیت،قوانین سے آگاہی اور ان پر عمل درآمد کرانے کے لئے واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ایک پرامن معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اسی طرح ہر سیاسی پارٹی خواتین ورکر کو عظت اور تعدادِ کی مناسبت سے نمائندگی دے ہر شعبے میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے اور لوکل گورنمنٹ الیکشن جلد ازجلد کروا ئے جائیں۔خاتون ایم پی اے شاہدہ وحید نے یقین دہانء کروائی کہ ان تمام مسائل کو اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد کی شکل میں پیش کروں گی۔نصرت آرا نے مزید کہا کہ اسلام میں عورت کوماں، بہن، بیٹی غرض یہ کہ ہر حیثیت میں اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا ہے جوکسی اور مذہب نے نہیں دیا یعنی عورت کو تمام رشتوں میں احترام اور عظمت سے نوازا ہے۔ ماں کی گود میں بچہ جو تربیت حاصل کرتا ہے وہی انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے پھر تعلیم حاصل کرتا ہے،جوان ہوتا ہے اور عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے حکمرانی کرتاہے،ملک کی باگ ڈور سنبھالتا ہے اور اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی قومی اسمبلی اور سینٹ میں خواتین کی نمائندگی موجود ہے لیکن بعض پسماندہ علاقوں میں ان پڑھ مرد اپنی عورتوں پر تشدد بھی کرتے ہیں جوکہ کسی قانون اخلاقی ضابطے اور معاشرے میں درست نہیں ہے ان اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر خواتین پر کم توجہ دی جاتی ہے۔حکومت ان کے لئے کچھ نہیں کرتی صرف بل پاس کر دینے سے ان کو حقوق نہیں ملتے جب تک عملدرآمد نہ کیا جائے۔مرد ہر جگہ عورت کا استحصال کرتے ہیں۔عورت اپنی عزت کی خاطر عدالت میں جاتی ہے تو تباہ کر دی جاتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ بعض مرد عورت کو جائیداد وراثت سے حصہ نہیں دیتے جو کہ دینا چاہیے۔ بھائی کو ملتا ہے اور بہن کو جائیداد میں حصے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔حکومت کو ایسی قانون سازی کرنی چاہیے کہ خواتین چاہیں بھی تو وراثت سے دستبردار نہ ہو سکیں تاکہ ان کوکسی قسم کی مشکل صورتحال کاسامنا نہ کرنا پڑے۔۔خواتین پرگھروں میں تشدد ہوتا ہے۔ بہت سارے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے تقریباً 95 فیصد کیسز رپورٹ نہیں ہوتے ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے منشورمیں خواتین کے حقوق بارے واضح موقف اختیارکرناچاہیے اورخواتین کی شکایات سننے کے لئے الگ سیل ہوناچاہیے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں