0

وزیراعلیٰ کے پی جلد ہی تاریخی رمضان پیکج کا اعلان کریں گے، کامران بنگش

پشاور(مانند نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان جلد ہی تاریخی رمضان پیکج کا اعلان کریں گے۔وزیراعلیٰ نے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں رمضان کے دوران ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری کنٹرول کرنے کیلئے بازاروں کے دورے کریں۔یہ بات وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ بتائی۔ٍصوبائی کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ انتظامی محکموں کے سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔کامران بنگش نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے وزراء کو ایک ہفتے کے اندر اندر ای۔ٹرانسفر پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کرنے ہوئے محکموں میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے وزراء کوٹاسک دیا کہ وہ اپنے محکموں کی ماہانہ جائزہ اجلاس بلائیں تاکہ عوام کی فلاح کیلئے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں صحت کے شعبے میں فرسٹ ایڈ کی دوردراز علاقوں میں دستیابی یقینی بنانے کیلئے غیر فعال سول ڈسپنسریوں کو فعال بنانے اور انتہائی ضروری عملہ کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ مکتب سکول کی بحالی کیلئے بھی سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ ہر بچے کو گھر کی دہلیز پر تعلیم کی سہولت میسر ہو۔وزیراعلیٰ نے محکمے کے سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ آٖفس سے جاری کردہ عوامی بہبود کے حامل CM Directives پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو لیور ٹرانسپلانٹ اور بون میرو کے علاج اور بلڈ ٹرانفیوژن کوصحت سہولت کار ڈ کے تحت مفت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کامران بنگش نے مزید بتایا کہ کابینہ نے عوام کو رمضان المبارک کے دوران حکومتی رعایتی نرخوں پر آٹے کی فراہمی بنانے کیلئے 20.8بلین روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزیراعظم کا نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 150کنال زمین پر 1320رہائشی پلاٹس کی غریب افراد کو فراہمی کیلئے طریقہ کار کی بھی منظوری دی۔22لاکھ فی فلیٹ کی قیمت مقرر کی گئی ہے جس کی ادائیگی 15سے 20سال کے دوران آسا ن اقساط پر بنک کے ذریعے کی جائے گی۔اس کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جن کی ماہانہ آمدنی 40ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو اور خیبر پختونخوا کا مستقل باشندہ ہو۔ایک فلیٹ780سکیور فیٹ کا ہوگا اورمستحق افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے ملے گا۔کابینہ نے 2010ء میں اے این پی کے دور حکومت میں ہزارہ ڈویژن میں شہید ہونے والے7افرادکے لواحقین کو فی کس10لاکھ روپے معاوضے کی فراہمی کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے بلڈ ٹرانفیوژن کے نظام کو مزید شفاف اور فعال بنانے کیلئے ریجنل بلڈ سنٹرزکی outcourcing کی بھی منظوری دی تاکہ محفوظ انتقال خون یقینی بنائی جا سکے۔ outcourcing کا نفاذہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کرے گی۔کابینہ نے صوبے میں جوان مرکز کی ضلعی سطح پر قیام کی بھی منظوری دی جس کے تحت آئی ٹی بیس ٹریننگ، کھیلوں کی سہولیات اور آئی ٹی سے متعلق نوجوانوں کو روز گار کے مواقع میسر آئیں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں