0

رمضان کی آمد سے پہلے ہی پشاورمیں مہنگائی کا طوفان آگیا

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت پشاورمیں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ شہر میں غیر معیاری،مضر صحت اور جعلی اشیاء کی بھی بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر دی گئی ہے۔شہر میں گوشت کی قیمتوں نے بھی اونچی اڑان بھر لی ہے جبکہ مرغی فی کلو گرام 261روپے تک جا پہنچی ہے۔چند دونوں کے اندر چکن کی فی کلوگرام قیمت میں 20 روپے اضافہ ہو ا ہے۔تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی پشاورمیں مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے او ر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیاگیا ہے جس کے باعث غریب اور متوسط افراد کی قوت خرید جواب دے رہی ہے اور اس دوران انتظامیہ بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور برائے نام کارروائیوں تک محدود ہے جبکہ روزانہ درجنوں افراد کی گرفتاری کے دعوؤں کے باوجود بھی مہنگائی کم نہیں ہو سکی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دور ان سبزیوں،پھلوں،دالوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے اور رمضان سے قبل ہی ٹماٹر،لیموں اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں کو بڑھا دیاگیا ہے۔30روپے کلو میں فروخت ہونے والے ٹماٹر کی سبزی منڈی میں قیمت 70روپے جبکہ فی کلو پرچون میں 80سے ایک مرتبہ پھر 100روپے تک جا پہنچی ہے۔لیموں سبزی منڈی میں 60روپے فی کلو میں فروخت ہورہا تھا تاہم دو دنوں کے دوران قیمت 150روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ پرچون میں فی کلو 200روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔رمضان کی آمد کے باعث خربوزہ 50سے بڑھ کر80روپے کلو تک جا پہنچا ہے۔اسی طرح کیلا فی درجن 120سے بڑھ کر 240روپے کر دیاگیا ہے۔امرود ایک ہفتہ قبل 50روپے کلو میں فروخت کیا جارہا تھا اب اس کی قیمت 120روپے کلو ہو گئی ہے۔اسی طرح اسٹرابری فی کلو 100روپے سے بڑھا کر200روپے کر دی گئی ہے جبکہ سیب فی کلو 120سے 220روپے تک جا پہنچا ہے تاہم انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور روزانہ درجنوں افراد کی گرفتاری کے دعوے کر کے سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کر رہی ہے جس پر شہریوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں