0

رانا ثنا اللہ کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوگا، فواد چوہدری

راولپنڈی (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے خلاف جو کارروائی کی گئی یہ ہمارا اندونی معاملہ تھا، کسی حکومت نے، کسی بین الاقوامی طاقت نے یا کسی ملک نے ہم سے کسی اس طرح کے ایکشن کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ یہ فیصلہ ہمارا اندرونی فیصلہ تھا اوراس کے لئے میں اپنی وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور اور صوبائی حکومتوں کو مبارکباددیتا ہوں کہ انہوں نے مشترکہ طور پر مل کو ایکشن لیا اور یہ کامیاب ہوا اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ رانا ثناء اللہ خان نے گذشتہ روز چیف سیکرٹری، کمشنر اوردیگر افسران کے خلاف جو زبان استعمال کی اس پر ان کے خلاف ہم نے دہشت گردی اور متعلقہ قوانین کا پرچہ ہو گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی،کسی شخص کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ہمارے سرکاری افسران کے بیوی بچوں و دھمکیاں دے اور ان کو کہے کہ آپ نے بھی یہاں رہنا ہے اور ہم نے بھی یہاں رہنا ہے۔ ان خیالات کااظہار فواد چوہدری نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ ہو یا (ن)لیگ کا کوئی اور بچہ بلونگڑا ہو اگر آپ نے سیاست کرنی ہے تو پاکستان کے آئین کی حدود میں رہ کرکرنا ہو گی،جاتی امراء میں کسی کا کوئی گھر گرانے کا پروگرام نہیں۔ شریف فیملی نے محکمہ ریونیو کے فیصلے کو سول کورٹ میں چیلنج کیا ہے پورا لیگل پراسیس فالو کیا جائے گا لیکن یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ہم نے سرکاری زمین پر قبضہ کر کے گھر بنالیا ہے تو اب اسے کوئی نہ گرائے، نہ آپ سرکاری زمینوں پر قبضے کریں گے، نہ آپ کمشنر کو دھمکیاں دیں گے اور نہ چیف سیکرٹری کو دھمکیاں دیں گے اور اگر آپ دیں گے تو آپ کے خلاف کارروائی ہو گی، یہ پیغام ہے۔  انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سکیورٹی ایجنسیز اور پولیس کی بہادری کو سراہا ہے۔ الحمدُاللہ یہ جو فتنہ تھا حکومت نے بڑے احسن طریقہ سے اس پر قابو پایا۔ پورے پاکستان میں صورتحال نارمل ہو چکی ہے۔ گذشتہ روز وزارت داخلہ نے کہا کہ ہمیں بڑا افسوس ہے کہ ہمیں تین، چار گھنٹے کے لئے سوشل میڈیا بند کرنا پڑا لیکن وہ بھی ایک ضروری تھا کہ اس معاملہ کوکسی طرف لے جایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایسے معاملات میں جینوئن شامل ہوتے ہیں، جو ہمارا مذہبی معاملہ ہے یا ہمارا رسولﷺ سے عشق کا معاملہ ہے وہ ہم سب کا یکساں ہے اس کے اوپر تو کسی کو کوئی دورائے نہیں، جب تک ہماری آل و اولاد اور ہماری جان سے زیادہ ہمیں رسول ﷺ کی حرمت پیاری نہ ہو تو ہم تو مسلمان ہی نہیں ہیں،یہ اصول سب کے لئے ہے لیکن اس اصول کے لئے سیاست کرنا اور اس طرح رسولﷺ  کی ذات کے اوپر اپنے ذاتی مفاد کوکرنا میں سمجھتا ہوں ایک بڑی ہی بدقسمتی کی بات ہے۔ کراچی میں جو فرقہ وارانہ  فسادات کرائے گئے تھے تحقیقات کے بعد پتا چلا تھا کہ اس میں را کا ہاتھ تھا اور ہمارے دشمن ملک کا ہاتھ تھا۔ یہاں پر جو جماعتیں ہیں وہ کئی دفعہ استعمال ہو جاتی ہیں اور ان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ کس کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، اس طرح کے فتنے جس کے نتیجے میں ملک کمزور ہو، جس کے نتیجہ میں آپ کی عالمی حیثیت متاثر ہو تو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، حکومت کی سطح کے اوپر اور خاص طور پر پاکستان کی جو پولیس ہے، پنجاب پولیس ہے، سندھ پولیس ہے، خیبر پختونخوا کی پولیس ہے، بلوچستان کی پولیس ہے اور سکیورٹی اداروں نے جس طرح متحد ہو کر اس فتنہ کو ناکام بنایا اس کے اوپر ہم ان کو مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں اور ہم ان کو یہ بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے بڑے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، ہمیں پاکستان کو اور ریاست کو کوئی انڈرمائن کیسے کرسکتا ہے۔ افغانستان میں جن کو سپر پاور  شکست نہیں دے سکی، ہم نے پاکستان میں ہماری سکیورٹی فورسز اور پاکستان کی فوج نے ان کو شکست دی۔ پاکستان کی ریاست کمزور ریاست ہرگز نہیں ہے اور کوئی یہ سمجھنے کی غلطی بھی نہ کرے۔ جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر آتے ہیں ان کو سنا جاتا ہے اور یہی ایک فعال جمہوریت ہوتی ہے لیکن اگر آپ یہ سمجھیں گے کہ آپ حکومت کو بلیک میل کرلیں گے یا یہ سمجھیں گے کہ آپ حکومت کے اوپر طاقت سے بلوے کر کے کچھ کر لیں گے تو یہ تو نہیں ہوسکتا،پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی ریاست ہے، سات ایٹمی ملکوں میں شامل ہے اور مسلمان ملکوں میں اگر کسی کے پاس سب سے بڑا دفاعی نظام ہے اور فوج ہے تو وہ پاکستان کی ہے، اس کو انڈرمائن نہ کریں جو بھی لوگ پاکستان کو انڈرمائن کرنا چاہتے ہیں وہ یہ غلط فہمی دوکرلیں، یہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست ایک عظیم ریاست ہے اس کو آگے برھنا ہے، پاکستان کے عوام ایک عظیم قوم ہیں اور ان کو آگے جانا ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے انہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر توہین  عدالت کا نوٹس دیا تو وہ پھر اس کو دیکھیں گے۔  ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ جہانگیر خان ترین پر جو الزا م ہے وہ انہوں نے عدالت میں ثابت کرنا ہے، جہانگیر ترین کے ساتھ حکومت کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں اور نہ ہی ان کا حکومت کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ ہے، کئی دفعہ ذاتی ناراضگیاں بھی دوسروں پر ڈالی جاتی ہیں، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، مجھے امید ہے کہ جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں گے اور اس انصاف کے اوپر اور پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام تحقیقات کرکے عدالت کو دے دینا ہے، پھر عدالت جانے اور ملزم جانے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قراردے دیا گیا ہے تواس کے جوبھی معاہدے ہیں وہ بھی خود بخود ختم ہو گئے ہیں۔  ZS

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں