0

مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوا، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ،شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے سے عالمی سطح پر مسلمان متاثر ہوتے ہیں، مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا، مغرب، مغربی میڈیا اور مغربی تجزیہ کاروں نے اسلام اور خود کش دھماکوں کو ایک ہی چیز بنادیا اور ہمیں اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی ممالک کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغیات ڈاکٹر شہباز گل، وزیر اعظم کے معاون خصوصی علامہ طاہر محمود اشرفی، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر حکام بھی موجود تھے جبکہ اس موقع پر او آئی سی ممالک کے سفیروں نے بھی اظہار خیال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان  نے کہا کہ میں تمام سفیروں کا آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں جو او آئی سی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا اوآئی سی سفیروں کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کی سطح  بڑھ گئی ہے اور خلیج بڑھ رہی ہے۔ جب میں وزیر اعظم بنا تو میں نے فیصلہ کیا کہ اسلامی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کروں گا، مغربی ذہنیت کو مسلمان نہیں سمجھتے اور مغر ب مسلمانوں کی اپنے نبیﷺ سے محبت کو نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک نے کبھی کوشش ہی نہیں کہ وہ مغرب کو سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کہ ہم اپنے نبیﷺ کے حوالہ سے کیا جذبات رکھتے ہیں،مغرب اسلام کو اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر چند سال بعد کوئی خاکے بنائے جاتے ہیں یا کوئی کتاب لکھی جاتی ہے جس میں ہمارے نبیﷺ کی توہین کی جاتی ہے اور پھر مسلمان دنیا کی جانب سے اس پر ردعمل آتا ہے۔ اس پر مغرب کہتا ہے کہ مسلمان بہت تنگ نظر ہیں اور وہ آزادی اظہار رائے کو نہیں سمجھتے اور وہ اقدار کو نہیں سمجھتے اور یہ چکر جاری رہتا ہے۔ میرا اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے کا بنیادی ہدف مغربی سامعین  اور مغربی ممالک کے سربراہان ریاست ہیں اور ہم انہیں کیا بتانا چاہتے ہیں، ہمیں انہیں دو چیزیں بتانا چاہتے ہیں۔ نمبر ایک کہ نبیﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور ہم ان سے پیار اور محبت کرتے ہیں اور آزادی اظہار رائے کے لبادے میں ان کی کسی قسم کی توہین کرنا یا ان کا تمسخر اڑانا ردعمل کو جنم دیتا ہے، ہم مغربی عوام اور حکومتوں سے بات چیت کرکے انہیں بتانا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں اس کی کوئی سوجھ بوجھ نہیں ہے،میں مغربی معاشروں کو جانتا ہوں میں وہاں رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ مذہب کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے ہیں اور وہ اس کو نہیں سمجھتے۔ تمام سطحوں پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں انہیں اپنا مؤقف بتانے کی ضرورت ہے اور ہمیں ایسا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن، یورپی یونین اور ان کے انسانی حقوق کمیشن میں کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں ان کے سامنے وضاحت کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا ہم سب نے مل کرکرنا  ہے،ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جارہی ہے،شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے سے عالمی سطح پر مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ دوسرا نقطہ یہ ہے اسلام اور دہشت گردی، شدت پسند اسلام ایک کرنسی بن چکا ہے اور مغربی ممالک میں عام لوگ ایک جدت پسند مسلمان اور ایک بنیاد پرست مسلمان کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہیں تو پھر ان کے لئے تمام مسلمان مشکوک بن جاتے ہیں۔ مغرب، مغربی میڈیا اور مغربی تجزیہ کاروں  نے اسلام اور خود کش دھماکوں کو ایک ہی چیز بنادیا اور ہمیں اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،اگر مغربی دنیا میں کوئی مسلمان کوئی دہشت گردی کا واقعہ کرتا ہے تو مغرب اس کے لئے تمام ایک ارب30کروڑ مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتا ہے اور ہمیں ان دونوں چیزوں کو الگ، الگ کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند اسلام کی اصطلاح کبھی استعمال ہی نہیں ہونی چاہئے، مسلمان لبرل اور ریڈیکل ہوسکتے ہیں لیکن اسلام ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت کے درمیان ہم آہنگی کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں تاہم اس وقت یہ انسانیت کو تقسیم کررہی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں