0

دنیا میں کہیں بھی ایک مسلمان پر ظلم ہم سب مسلمانوں پر ظلم کے مترادف ہے، فضل حکیم

سوات (مانند نیوز ڈیسک) بحیثیت مسلمان میری اور آپ کی آواز فلسطینی مسلمان کے درد کی دوا ہے، دنیا میں کہیں بھی ایک مسلمان کو پہنچنے والی تکلیف ہم سب کی تکلیف ہے، فلسطین کے مسلمان جس کرب سے گزر رہے ہیں اس کی تکلیف ہم سب یہاں محسوس کررہے ہیں، ان کی حمایت اور حق خودارادیت کے لئے ہر حد تک جائیں گے،وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پوری قوم نے جس منظم انداز میں فلسطین کی پکار پر لبیک کہا اور پوری قوم فلسطینیوں کی زبان بنی وہ دوسرے مسلم اقوام کے لیے بھی قابل تقلید ہے، اسرائیل نے جس بربریت اور ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، احتجاجی ریلی میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کرکے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام خصوصا نوجوان کسی بھی ظلم کے خلاف فلسطینیوں کی آواز بننے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور یہ حمایت ہر فورم پر جاری رکھیں گے، چئیرمین ڈیڈیک و صدر پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن فضل حکیم خان یوسفزئی کا یکجہتی فلسطین ریلی سے خطاب۔ اپنے خصوصی خطاب میں فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ رمضان کے بابرکت مہینے سے اسرائیل نے فلسطین پر ظلم اور بربریت کا بازار گرم کیا ہے اور اس کی مذمت پوری دنیا نے کی لیکن جس بھرپور طریقے سے پاکستان نے دنیا کو آگاہ کرنے اور اسرائیل کی بربریت روکنے کیلئے کردار ادا کیا وہ قابل تقلید ہے، خارجہ وزارت نے بھرپور طریقے سے اسلامی ممالک کو منظم کرنے اور پوری ممالک کے عوام تک اپنی آواز پہنچانے میں فرنٹ لائن میں رہ کر کام کیا، اگرچہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے مگر امت مسلمہ کو فلسطینیوں کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے نتیجہ خیز انجام تک پہنچانے کے لیے منظم طریقے سے کام کرنا ہوگا اور بھرپور آواز اٹھانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بربریت کے روزِ اوّل سے اب تک ملاکنڈ کے عوام نے بھرپور احتجاج کیا ہے اور پیغامات کے ذریعے فلسطین کے موقف کی حمایت کی ہے۔ ملاکنڈ کے عوام خصوصاً نوجوانوں کا یہ خاصا رہا ہے کہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ سے آواز بلند کیا ہے۔ چیئرمین ڈیڈیک کا کہنا تھا کہ اسرائیل جتنا بھی ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کرے فلسطین کے عوام مسلم اُمہ خصوصاً پاکستانیوں کی حمایت سے اپنے حق خود ارادیت لینے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور حکومت وقت مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی، اخلاقی اور مذہبی حمایت جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ فلسطین سے یک جہتی اور اسرائیلی بربریت کے خلاف مینگورہ میں ریلی نکالی گئی جو نشاط چوک سے شروع ہوکر سہراب چوک پر اختتام پذیر ہوئی، ریلی میں نوجوانوں نے اسرائیل مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے، ریلی سے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں