0

کمزور طبقے کو نظرانداز کرنیوالا ملک ترقی نہیں کرسکتا، عمران خان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کمزور طبقے کو نظرانداز کرنیوالا ملک ترقی نہیں کرسکتا،احساس پروگرام تیزی سے نہ چلاتے تو کمزور طبقے کو مزید نقصان ہوتا۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے احساس سیونگ وا لیٹس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ  کوئی بھی ملک ایک عظیم ملک نہیں بن سکتا جب تک وہ  اپنے اس طبقہ کو جو پیچھے رہ گیا، جو کمزور طبقہ ہے جب وہ  تک اسے نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ کبھی بھی کوئی ملک ایک عظیم ملک نہیں بنا جہاں ایک چھوٹا سا جزیرہ امیر لوگوں کا ہو اور سمندر غریب لوگوں کا ہو، وہ ملک کبھی بھی عظیم ملک نہیں بن سکتا۔ ہمارے نبیﷺ نے مدینہ کی ریاست میں ثابت کرکے دکھایا تھا کہ پہلی مرتبہ دنیا میں ریاست نے کمزور طبقہ کی ذمہ داری لی تھی اور ایک فلاحی ریاست بنائی تھی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اتنی تیزی سے دنیا کی کوئی قوم اوپر نہیں آئی اور پھر اس قوم نے کئی صدیوں کے لئے دنیا میں امامت کی۔ جب کوئی قوم اس ماڈل پر چلتی ہے تو اوپر آجاتی ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو۔۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کا دوسرا اصول قانون کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، قانو ن کے سامنے سب ایک برابر کا تھا۔یہ دو اصول ریاست مدینہ میں رکھے گئے تھے اور آج اگر دنیا میں دیکھیں تو جو قوم اوپر گئی ہے وہ ان دو اصولوں پر اوپر گئی۔ چین بھی اگر آج دنیا کی ایک سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی قوم ہے، لگ رہا ہے کہ وہ سب کو پیچھے چھوڑ جائے گی تو اس نے غربت کم کرنے کے لئے ایک پالیسی بنائی تھی، چین نے 70کروڑ لوگوں کو 30یا35سال کے اندر غربت سے نکالا، جب غربت کم ہوئی تو وہ قوم اوپر چلی گئی، ہمارا بھی بالکل وہی ماڈل ہے اور ہم پورا زور لگارہے ہیں کہ ہم ملک میں کمزور طبقہ کو اوپر اٹھائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ احساس پروگرام دنیا کے اندر چوتھا پروگرام سمجھا گیا جس کے ذریعے کوروناوائرس کے دوران متاثرہ طبقہ کو سیفٹی نیٹ دیا گیا۔  انہوں نے کہا کہ چاہے امیر ملک ہوں یا غریب ملک،کوروناوائرس کے دوران سب سے زیادہ جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ غریب لوگ تھے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران کوروناوائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن لگائے گئے اس سے دنیا میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے جب لاک ڈاؤن لگائے گئے تو جو طبقہ سب سے زیادہ کمزور تھا یا جو لوگ دیہاڑی دار تھے اور روزانہ پیسہ کما کر بچوں اور خاندان کو کھلاتے تھے یا جو ہفتے کی کمائی بچوں کو کھلاتے تھے تو جب معیشتیں بند ہوئیں اور ملک لاک ڈاؤن میں بند کئے گئے تو یہ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور ساری دنیا میں غربت پھیلی،،احساس پروگرام تیزی سے نہ چلاتے تو کمزور طبقے کو مزید نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جن ممالک نے جلدی، تیزی سے اور شفافیت سے اس متاثرہ طبقہ کی مدد کی اس میں ورلڈ بینک کے مطابق چوتھے نمبر پر پاکستان کا احساس پروگرام تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری25فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، کسی نے آج تک یہ نہیں کہا کہ احساس پروگرام میں سیاسی بنیاد پر کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچایا گیا، ٹیکنالوجی کاا ستعمال کیا گیا اور بہترین طریقہ سے مستحق لوگوں کی امداد کی گئی، آج جس پروگرام کا آغاز کیا گیا اس کی بڑی اہمیت ہے، دنیا میں ایک چیز ثابت ہو گئی ہے کہ بینکنگ سسٹم میں  جیسے لوگ آتے ہیں اور جیسے، جیسے بینکنگ سسٹم میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں تو اس ملک میں غربت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین کی مدد کی جاتی ہے، جب ان کو روزگار دیتے ہیں اور ان کو بھی معاشی نظام کے اندر لے کرآتے ہیں تو اس سے تیزی سے غربت ختم ہوتی ہے، نائیجریا، کینیا اور بنگلادیش میں یہ سب تجربات ہو چکے ہیں، جب خواتین کو ایک نظام میں شامل کر لیں تو وہ پیسے بچا سکتی ہیں اور دیگر کاروبار شروع کرسکتی ہیں اور جو احساس پروگرام کے تحت ہم ان کی براہ راست امداد کرتے ہیں وہ پھر اس کو بہتر انداز میں استعمال کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے اور ہمیں دو سال تو منصوبہ بندی میں لگے اور اب یہ پروگرام زمین پر آرہے ہیں اور ان پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔آج جس پروگرام کاآغاز کیا گیا ہے یہ بھی کامیاب ہو گا۔جبکہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ 

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں