0

شمالی وزیرستان کے مامیت خیل قبیلے کا نوجوان کے قتل کے خلاف دھرنا

بنوں (مانند نیوز ڈیسک) شمالی وزیرستان کے مامیت خیل قبیلے کا نوجوان کے قتل کے خلاف دھرنا دوسرے روز میں داخل ہوگیا مظاہرین نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے میرانشاہ روڈ کو بدستور ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رکھا اُنہوں نے اعلان کیا کہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں روڈ ٹریفک کیلئے کھولا جائے گا صوبائی وزیر برائے ریلیف و آباد کاری محمد اقبال خان نے منت سماجت کے بعد مامیت خیل قبیلے سے لاش لے کر دفنا دی اور مامیت خیل قبیلے کو یقین دلایا کہ مامیت خیل قبیلے کا مسئلہ مامیت خیل قبیلے کا نہیں بلکہ میں اپنا مسئلہ سمجھتا ہوں یہی مسئلہ قبیلے کی خواہش کے مطابق حل کرنے کی کوشش کروں گا قبیلے کے مشران نے صوبائی وزیر محمد اقبال خان وزیر کی بات مان کر نوجوان کی لاش صوبائی وزیر محمد اقبال خان کو دے دی بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے ملک شہزادہ خان,ملک ریمال خان,ملک روخ اللہ خان ودیگر نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا نوجوان بے گناہ تھا اس کا کسی قسم کا جرم نہیں تھا پولیس نے بے دردی سے اس پر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے پولیس وجہ بتادے کسی کے کہنے پر نوجوان کو قتل کیا ہے اُنہوں نے کہاکہ پولیس کو تربیت دی جائے شمالی وزیرستان میں تربیتی پولیس کی کمی ہے اسی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں لہٰذا ان واقعات کا تدارک کیا جائے اُنہوں نے دھمکی دی کہ ہمارا جائز مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو مجبوراً اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں