0

اس وقت بنوں کے علاقہ جانی خیل کے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں، جماعت اسلامی

بنوں (مانند نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر وسینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے موجودہ صورتحال کے بارے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بنوں کے علاقہ جانی خیل کے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں ایک ہفتہ سے زائد عرصہ ہواہے کہ وہاں پر ملک نصیب خان کے قتل کے خلاف دھرنا جاری ہے جس پر جن مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جس پر جانی خیل قوم نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت مخالف دھرنا دے رکھا ہے اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر پروفیسر محمد اجمل خان,نائب امیر ڈاکٹر ناصر خان,الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر محمد جلال شاہ ایڈوکیٹ,حلقہ شہر کے امیر مولانا ہدایت اللہ,الخدمت فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری اشفاق خان ودیگر بھی موجود تھے پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہاکہ ملک نصیب خان کے قتل سے پہلے بھی اسی علاقے میں چار نوجوانوں کو نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کیا تھاجس کے خلاف بھی جانی خیل کے قبیلے نے طویل دھرنا دیا تھا لیکن کسی نے اس کی بات نہیں مانی جب وہ اسلام آباد کی طرف نکل پڑے تو آدھمی پل کے قریب حکومت نے رکاؤٹیں کھڑی کرکے احتجاجی مظاہرین کوروک لیا اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دیگر وزراء کے ہمراہ بنوں آنے پر مجبور ہوئے اُنہوں نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کیا اور مشترکہ ایک معاہدہ لکھا جس پر کمشنر بنوں ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر بنوں کے د ستخط موجود ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اب تک جانی خیل قبیلے کے مطالبے پورے نہیں ہوئے وہاں نہ امن قائم ہوا اور نہ ہی اچھے اور برے طالبان چلے گئے جانی خیل قبیلے کے جتنے بے گناہ افرادگرفتار ہوئے ہیں اُنہیں رہا کیا جائے قوم مطالبہ کرتی ہے کہ امن قائم کیا جائے ایک طرف حکومت آپریشن کے نام پر اسلحہ لیتی ہے اور قوم کو غیر مسلح کرتی ہے تو ذمہ داری پاک فوج کی بنتی ہے کہ اُن کو تحفظ بھی دیا جائے جانی خیل قبیلے کے ساتھ کسی بھی آفیسر نے رابطہ نہیں کیا اور نہ کوئی آفیسرز گئے ہیں اس پر جماعت اسلامی تشویش کا اظہار کرتی ہے جو معاہدہ ہوا ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے اُنہوں نے کہاکہ حکومت کی حیثیت ماں باپ کی ہوتی ہے حکومت کا فرض بنتا ہے کہ عوام کو اولاد کی نظر سے دیکھے جانی خیل کے ساتھ جو ہورہا ہے یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے اس سلوک سے حکومت اجتناب کرے پاک فوج اپنی بہتری کیلئے عوام کے مسائل میں مداخلت نہ کرے جتنے عوام کے مسائل پاک فو ج کے ساتھ ہیں ا ن سے پاک فوج کو فارغ کیا جائے اور سول انتظامیہ کو ذمہ داریاں سپرد کی جائیں جس طرح مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے اُسی طرح ان علاقوں میں بھی ہوجائے تو بہتر ہوگاورنہ اگر ایسا نہ ہو تو عوا م کو تکلیف ہوگی اور پاک فوج کو بھی نقصان ہوگا اُنہوں نے کہاکہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی دباؤ میں آکرمیں جو حکمت عملی اورپالیسی اپنائی تھی اور جنوبی وزیرستان،شمالی وزیرستان،کرم باجوڑ ان تمام ایجنسیوں میں دہشت گردوں کے نام سے آپریشن کئے گئے اور جن کے برے نتائج ہمارے سامنے آئے غیر قانونی اقدامات سے باز آجائے کالے قانون سے عوام کو تحفظ دیا جائے ایسے افراد جو قانون سے انتقام لے رہے ہیں وہ عوام سے مانگے جنوبی اضلاع سے کالا قانون ختم ہونا چاہیے لاپتہ افراد کا معاملہ پورے پاکستان کا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں