0

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کا پولیس ٹریننگ سنٹر شاکس کا دورہ

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹرثناء اللہ عباسی نے آج پولیس ٹریننگ سنٹر شاکس کا دورہ کیا۔ شاہ کس ٹریننگ سنٹر پہنچنے پر ڈی آئی جی ٹریننگ، ڈی پی او خیبر، ڈائریکٹر پولیس ٹریننگ سنٹرشاکس اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے آئی جی پی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے ایک چاق و چوبند دستے نے آئی جی پی کو سلامی پیش کی۔آئی جی پی ٹریننگ سنٹر میں بنیادی تربیت کے تیسرے مرحلے کے زیر تربیت جوانوں کے جاری مختلف کلاسز میں گئے اور اْن کو ٹریننگ کے دوران پڑھائے جانے والے مضامین اور کلاسز میں درس و تدریس کے معیار کا جائزہ لیا۔ آئی جی پی کچھ دیر کے لئے کلاس کے روسٹرم پر گئے اور جوانوں سے ان کو پڑھائے جانے والے مضامین میں مختلف سوالات پوچھے جن کے جوانوں نے اپنی تریبت کی روشنی میں تفصیلاَجوابات دیئے۔ آئی جی پی نے تربیتی کلاسز کے معیار اور انسٹرکٹروں اور اساتذہ کی محنت شاقہ کی تعریف کی اور جوانوں کی تربیتی کلاسز میں گہری دلچسپی لینے کوحوصلہ افزاء قرار دیا۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے آئی جی پی نے جوانوں پر زور دیا کہ وہ ٹریننگ کے دوران زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے عمل کو اپنائیں اور فیلڈ میں جاکر اپنی پیشہ ورانہ کیرئیر بنانے میں ان سے زیادہ استعفادہ کریں۔آئی جی پی نے کہا کہ جوانوں کی بہترین ویلفیئر اْن کی معیاری تربیت ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ تربیت کے معیار کو مزید موثر اور بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ آئی جی پی زیر تربیت جوانوں کے بیرکوں اور رہائشی کمروں اور کیچن میں بھی گئے۔ جہاں انہوں نے اہلکاروں کی رہائشی سہولیات اور کھانے کے معیار کا بذات خود جائزہ لیا۔آئی جی پی نے پولیس ٹریننگ سنٹر کے تربیت کے معیار اور جوانوں کی جرات اور بہادری اور تربیت میں گہری دلچسپی کی تعریف کی۔ اور اْمید ظاہر کی کہ بہت جلد یہ ادارہ تربیت کے حوالے سے رول ماڈل ثابت ہوگا۔بعد ازاں آئی جی پی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شاکس پولیس ٹریننگ سنٹر میں پولیس عملے کے زیر انتظام لیویز اور خاصہ داروں کے تیسرے مرحلے کی تربیت سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ پہلے دو مرحلوں میں 11 ہزار سابقہ لیویز اور خاصہ داروں کی تربیت مکمل ہوچکی ہے۔ تیسرے مرحلے میں پولیس کے زیر انتظام 6 ہزار اہلکاروں کی تربیت شروع ہے، جو اگست تک مکمل کرلی جائے گی۔ آئی جی بی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کا حسن یہ ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اہلکاران اس سنٹر میں زیر تربیت ہیں۔ آئی جی پی کا مزید کہنا تھا تمام لیویز اور خاصہ داروں کی تنخواہیں بنکوں کے ذریعے کرائی جاچکی ہیں اور دیگر پولیس کی طرح تمام مراعات اور سہولیات حاصل کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہا کہ لیویز اور خاصہ دار شہداء کے 250 بچوں کو بہت جلد پولیس فورس میں ملازمت فراہم کی جارہی ہے۔آئی جی پی نے مزید کہا کہ لیویز اور خاصہ داروں کے کیریئر پلاننگ کے لیے پولیس پالیسی بورڈ کا اجلاس بلایا گیا ہے۔ جس میں ان کے کیریئر کے حوالے سے اچھے فیصلے کئے جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں آئی جی پی کا کہنا تھا کہ وہ بذات خود لیویز اور خاصہ داروں کی تربیت سے بے حد متاثر ہوئے ہیں اور کہا کہ وہ جہاں بھی گئے ہیں۔ وہاں ان کی تربیت کو بہت اچھا اور معیاری پایا ہے اور کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے جوانوں کی تربیت کسی بھی حوالے سے دیگر پولیس سے کم نہیں ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ اگست کے آخر تک ان کی بنیادی تربیت مکمل کرنے کے بعد لیویز اور خاصہ داروں کی تفتیشی اْمور کے حوالے سے تربیت شروع کردی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے لیویز اور خاصہ داروں کی ڈی ایس پی کی سات سیٹیں ان کے لیے خالی چھوڑ دی گئی ہیں۔ اسی طرح لیڈیز اور اقلیتوں کی سیٹیں بھی ان کے لیے خالی چھوڑ دی گئی ہیں اور کہا کہ ماضی میں ان کے جو حقوق سلب کئے گئے تھے ان کے ازالے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہے۔   

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں