0

وزیر اعظم پہلے ون ونڈو احساس مرکز کا افتتاح کریں گے

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان آج (بدھ کو) پہلے ون ونڈو احساس مرکز کا افتتاح کریں گے۔تفصیلات کے مطابق احساس پروگرام کے تحت 14مختلف طبقات کیلئے متعدد پروگرام چلائے جارہے ہیں۔ لیکن عموما ایک غریب گھرانے کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ وہ کن فوائد کا حقدار ہے اور اگر اسے علم ہے تو اسے فوائد کے حصول کیلئے مختلف دفاتر کا دورہ کرنا پڑتا ہے۔ ون ونڈو احساس کا مقصد ون ونڈو، ون سٹاپ شاپ کے ذریعے خدمات فراہم کرنا ہے۔ ون ونڈو احساس کے چھ ستون ہیں جن میں ون سٹاپ شاپ، احساس سینٹر، ڈیجیٹل انفارمیشن اور سروس پلیٹ فارم، موبائل ایپ، ڈیجیٹل انٹر فیس، اے پی آئی آرکیٹیکچر، یا مربوط قومی سماجی و اقتصادی ڈیٹا بیس اور احساس ون ونڈو بینیفشری سلیکشن اور ٹارکٹنگ پالیسی شامل ہے۔ پہلے ون ونڈو احساس مرکز کا افتتاح آج(بدھ کو) اسلام آباد ستارہ مارکیٹ میں ہوگا۔ اس مرکز میں، ایک ہی جگہ پر تمام احساس سہولیات میسر ہونگی۔ احساس کفالت مستحقین، جن کے اہل خانہ کو وظیفہ ملتا ہے، ان کیلئے ون ونڈ و مرکز میں پوائنٹ آف سیل مشینوں اور کیش مشینوں یا اے ٹی ایمز دونوں کی سہولت موجود ہوگی۔ مرکز میں شراکت دار بینکوں نے اپنی برانچوں اور نادرا نے اپنے دفاتر قائم کئے ہیں۔ ایک مرکز میں تمام سروسز موجود ہونے سے احساس کفالت مستحقین کو فائدہ حاصل ہوگا، جنہیں پہلے اپنی شکایات کے ازالے کیلئے متعدد دفاتر کا دورہ کرنا پڑتا تھا۔ان مراکز میں بچوں کیلئے احساس وظائف تک رسائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بچے کے اندراج سے قبل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے تین مختلف ذراع سے تصدیق کی جاتی ہے اور اگر بچے کی پیدائش کا رجسٹریشن فارم موجود نہیں ہے جو اندراج کیلئے لازمی ہے تو اس بچے کی ماں ٹیکسی کرا کر دوسری جگہ جانے کی بجائے وہیں پر موجود نادر ڈیسک سے رجوع کرے گی۔ مرکز میں احساس نشوونما کی سروسز بھی دستیاب ہیں۔ اسٹنٹنگ کا شکار بچے اور حاملہ مائیں وہاں سے مخصوص غذائیت سے بھر پور خوراک اور اے ٹی ایم سے وظاف حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ وہاں پر صحت اور غذائیت پر آگاہی سیشن میں شرکت کرسکتی ہیں۔ مرکز میں حفاظتی ٹیکوں سے متعلق خدمات بھی دستیاب ہیں۔طلبا ان مراکز سے احساس اندرگریجویٹ سکالر شپ سے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور انہیں درخواست فارم پر کرنے کیلئے انٹرنیٹ کیفے استعمال کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں دینا پڑے گا۔ ون ونڈو مرکز میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور پرنٹر کا استعمال مفت ہے۔ اگر کسی شخص کو روزگار کے مواقع کی تلاش ہو تو وہ ون ونڈو مرکز جاکر احساس آمدن اور احساس بلاسود قرضہ ڈیسک کا دورہ کرسکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو صحت کیلئے مالی معاونت درکار ہوتو وہ صحت سہولت کی معلومات حاصل کرسکتا ہے اور اگر وہ صحت سہولت پروگرام کا حقدار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہسپتال اسکے پینل پر ہے تو مالی معاونت کیلئے احساس تحفظ یا پی بی ایم صحت پروگرام کیلئے رجوع کرسکتا ہے۔ون ونڈو مرکز میں کئی دیگر خدمات بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی شخص پناہ گاہ میں رات گزارنا چاہتا ہے تو وہ ایک بیٹ کی بکنگ کراسکتا ہے، اسے ایک ون سٹار بیٹ اور ناشتے کی سہولت ملے گی۔ ایک بچے کا یتیم خانے میں اندراج کرایا جاسکتا ہے;234; اور ایک نوجوان خاتون ووکیشنل سینٹر سے متعلق معلومات حاصل کرسکتی ہے اور اس میں داخلہ لے سکتی ہے۔ بے سہارا بچے کو ہمارے کسی بھی مفت سکول میں داخلہ مل سکتا ہے۔سروے کئے جانے والے علاقوں میں احساس رجسٹریشن ڈیسک قائم کردیئے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ لوگ احساس فوائد کے اہل ہیں یا نہیں۔ مرکز میں ڈیش بورڈ کے ذریعے لوگ اپنی ضروت کے مطابق معلومات حاصل کرسکتے اورشکایات کا اندراج کراسکتے ہیں۔ مستحقین کیلئے ایک علیحدہ کمرہ بھی موجود ہے جہاں وہ اپنے چھوٹے بچوں کوکھلا پلاسکتی سکتی ہیں۔مخصوص صلاحیت کے حامل افراد کیلئے مرکز میں متعدد سہولیات موجود ہیں۔ طریقہ کار کو آسان بنایا جارہا ہے تاکہ وہ معذوری کا کارڈ با آسانی حاصل کرسکیں۔ اسی کمرے میں، غیر سرکاری تنظیموں کو جگہ فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ مفت مصنوعی اعضا اور آرتھوفراہم کریں۔ نیز، اپنی مرضی کے مطابق ویل چیئر کا آرڈر بھی دیا جاسکتا ہے۔دوسرا حصہ ڈیجیٹل ای پورٹل ہے جسے سوشل میڈیا پر احساس پروگرام سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات کے نتا ئج میں تشکیل دیا گیا۔ون ونڈو احساس کا تیسرا حصہ ایک ایپ ہے جو ڈیجیٹل پورٹل پر معلومات فراہم کرتی ہے اور اس کے علاوہ لنگرخانوں، پناہ گاہوں، ادائیگی مراکز سمیت ہماری دیگر ساٹس کی نشاندہی کرتی ہے۔ کوئی بھی شخص موبائل کے ذریعے احساس سوشل ویلفیئر ساٹ کا پتہ معلوم کرسکتا ہے۔چوتھا حصہ مربوط ڈیجیٹل انٹر فیس ہے جو احساس ایکوسسٹم میں کام کرنے والے تمام افراد کو مناسب رابطہ اوروسائل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ون ونڈو احساس کا پانچواں حصہ ڈیٹا بیس ہے۔ اس سے قبل 2010 میں یہاں تک کہ صوبائی سماجی تحفظ کی تنظیموں کو بھی ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کاغذی کارروائی کرنا پڑھتی اور اس میں اخراجات بھی شامل ہوتے تھے۔ اب، احساس اعدادوشمار میں اصلاحات کے تحت، احساس پر عملدرآمد کرنے والے تمام وفاقی ادارے بغیر کسی خرچے کے احساس قومی سماجی و معاشی رجسٹری2021کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ڈیٹا کا انضمام شفافیت کو یقینی بنائے گا۔ ادارے یہ معلوم کرسکیں گے کہ ایک فرد یا خاندان کو کونسے فوائد حاصل ہورہے ہیں اور وہ احساس کے کونسے پروگراموں کے حقدار ہیں۔ون ونڈو احساس کا چھٹا ستون، بینیفشری ٹارگٹنگ پالیسی ہے۔ اس سے قبل تما م ادارے اہلیت کا اندازہ لگانے کیلئے اپنا نظام استعمال کرتے تھے۔ اس پالیسی کے تحت مستحقین کی نشاندہی کیلئے پراکسی مینز ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے، جو کسی فرد یا گھرانے کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے الگورتھم کے ذریعے 0تا 100کے درمیان گھرانے کی درجہ بندی سے اس کی اہلیت کے معیار کا تعین کرتا ہے۔ اسکور کیلئے درکار معلومات قومی سماجی و معاشی سروے سے حاصل ہوتی ہیں۔ لہذا، ون ونڈو پالیسی میں، ہر پروگرام کیلئے مخصوص پی ایم ٹی مقرر کئے گئے اور اس کی نقل سے بچنے کیلئے ایک پالیسی وضع کی گئی۔ وزیر ا عظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ہم ہر ضلع میں ون ونڈو مراکز قائم کریں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں