0

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کا ضلع خیبر کا دورہ

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے آج ضلع خیبر کا دورہ کیا۔ ضلع خیبر پہنچنے پر سی سی پی او پشاور، ڈی پی او خیبر اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے آئی جی پی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس لائنز خیبر میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف اوقات میں پولیس کاروائیوں میں برآمد شدہ چوری کی گاڑیاں مالکان کو حوالہ کی گئیں۔ آئی جی پی نے برآمد شدہ گاڑیوں کی چابیان ان کے اصل مالکان کو حوالہ کیں۔ واضح رہے کہ ضم شدہ اضلاع میں پچھلے تین مہینے کے دوران مختلف اقسام کی 57 گاڑیاں برآمد کی گئیں۔ اسی طرح منشیات کے خلاف مہم میں بھی خیبر پولیس کی کارکردگی ہر حوالے سے نمایاں رہی اور اس دوران بالخصوص ہیروئن اور آئس کی 5فیکٹریاں بھی پکڑی گئیں۔ تقریب میں آئی جی پی نے چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی اور جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسروں و جوانوں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے بھی نوازا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ آج ضم شدہ اضلاع میں اچھی پولیسنگ کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہیاور ملک کے مختلف حصوں سے 15 سال پرانی چوری شدہ 57 گاڑیوں کو تمام قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد ان کے اصل مالکان کو حوالہ کی جارہی ہیں اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں چوری شدہ گاڑیوں کو ان کے اصل مالکان کو حوالہ کرنے کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آئی جی پی نے کہا کہ ان گاڑیوں میں سے کچھ کے چیسز نمبربھی ٹمپرڈ کئے گئے تھے، تاہم ضم شدہ اضلاع بالخصوص خیبر پولیس اور انٹی کارلفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے پیشہ ورانہ کمٹمنٹ اور دن رات سخت محنت کرکے اس مشکل اور ناممکن کام کو ممکن بنا دیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ اب تک ضم شدہ اضلاع میں اچھی اور معیاری پولیسنگ ہو رہی ہے اور لوگوں کی بہترین خدمت کے ساتھ ساتھ حق دار کو ان کا حق اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا جارہا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں دیگر کیس پراپرٹی مقدمات جن میں منشیات اور اسلحہ شامل ہیں، ان کا فارنزک لیبارٹری کے ذریعے ٹیسٹ کرایا جارہا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں اسی طرح انٹی کار لفٹنگ سیل قائم کئے جارہے ہیں تاکہ وہاں بھی چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی اور ان کو اصل مالکان تک پہنچانے میں مدد مل سکے۔ آئی جی پی نے کیپٹل سٹی پولیس، خیبر پولیس اور انٹی کارلفٹنگ سیل کی کارکردگی کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی جرائم پیشہ افراد کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاکر اچھی پولیسنگ کو جاری و ساری رکھیں گے۔ اس موقع پر آئی جی پی نے پولیس ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ اور ضلع خیبر پولیس کے جن پولیس افسروں و جوانوں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا، ان میں ڈی آئی جی ٹریننگ محمد امتیاز شاہ، ڈی پی او خیبر وسیم ریاض، ڈائریکٹر پی ٹی ایس شاکس عبدالحئی، سی ایل آئی انسپکٹر محمد ارشد خان، ایس آئی لیاقت زادہ خان، ایس آئی انعام اللہ خان، ایس آئی علی سید خان، اے ایس آئی رفیع اللہ، ایچ سی جنید خان، ایچ سی فیاض خان، ایچ سی مشرف خان، ڈی ایس پی ٹریننگ شکیل احمد، انسپکٹر شاکر اللہ، انسپکٹر محمد عمر، کمپیوٹر آپریٹر یوسف علی، ایس آئی طاہر حسین، انسپکٹر عابد آفریدی، اے ایس آئی شکیل خان، اے ایس آئی عاطف آفریدی، ایچ سی سعید خان، ایچ سی شیر بہادر آفریدی، ایچ سی اسحاق خان، ایڈیشنل ایس ایچ اوذوالفقار خان، کانسٹیبل عدنان، کانسٹیبل خیتان، کانسٹیبل شاہد، ایس ایچ او شلمان جاوید خان، ظہیر خان، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز خیبر محمد نواز خان، ڈی ایس پی ٹریفک خیبر مظہر خان آفریدی، انسپکٹر انچارج اے سی ایل سی خیبر عاد خان آفریدی، ایس ایچ اوباڑہ ایس آئی اکبر خان آفریدی، ایس ایچ او جمرود ایس آئی امجد خان، ایس ایچ او لنڈیکوتل ایس آئی امجد شلمانی، ایس ایچ او تیراہ ایس آئی شمشاد خان، علی رضا،اے ایس آئی پی ایس باڑہ نواب خان، رفیع اللہ،عدنان ذوالفقار اور سیدکریم شامل ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں