0

جس پاکستان میں ہم رہ رہے ہیں یہ قائداعظم کا 1947 والا پاکستان نہیں ہے

تھانہ (مانند نیوز ڈیسک) جس پاکستان میں ہم رہ رہے ہیں یہ قائداعظم کا 1947 والا پاکستان نہیں ہے۔ لارڈ ماوئنٹ بیٹن  کے بنائے گئے نقشے میں بھارت کا  علاقہ گورداس پور پاکستان کا حصہ تھا لیکن تقسیم کے وقت راتوں رات مکھ مکا کرکے بھارت کے ساتھ شامل کر لیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار جمیعت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی قائد مولانا محمد خان شیرانی نے تھانہ میں ایک روزہ نظام مصطفےٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظرئے کے تحت بنا تھا لیکن آج بین الاقوامی سطح پر ہم اس خطے کے مالک ہمیں نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ تصور کئے جاتے  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خود کو پوری دنیا کا چوہدری قرار دیتا ہے۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ کا ایک ہاتھ حکومت اور دوسرا اپوزیشن پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلیل عرصے میں متعدد اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔ کانفرنس سے مرکزی رہنماء سابق سنیٹر مولانا گل نصیب خان، سابق  رکن قومی اسمبلی مولانا شجاع الملک، حافظ سیراج الدین اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ تینوں نے قائد جمعیت مولانا فضل رحمٰن کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی وجہ بتائے جماعت سے نکال دیئے اور اسرائیل سے پیسے لینے کا الزام بھی لگایا۔ مولانا گل نصیب خان نے  غیر جانبدار کمیٹی  کی نگرانی میں  فیصلے کی پیشکش کی اور کہا کہ اسی طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ اگر مولانا فضل رحمٰن قصور وار ٹہرے توتوبہ کرلے گا اور اگر ہم پر لگائے گئے الزامات سچ ثابت ہوئے تو جو چاہے سزا کے لئے تیار ہیں۔ مقریرن نے کہا کہ اگر سچ بولنا گنا قصور اور گنا ہے تو یہ گنا ہم آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن جمیعت کو یرغمال نہیں ہونے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل رحمٰن نے پارٹی کو گھر کی لونڈی بنا رکھی ہے اور سارے عہدے اپنے خاندان میں تقسیم کر لئے گئے ہیں۔ مقریرین نے کہا کہ  بہت جلد مطلق العنانیت سے نجات حاصل کرلیں گے،۔۔۔۔۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں