0

سندھ حکومت کے فیصلے زرداری ہاؤس سے ہوتے ہیں، فوادچوہدری

کراچی (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ  سندھ حکومت کے فیصلے  زرداری ہاؤس سے ہوتے ہیں،مسلم لیگ ن   ہر چیز کو پڑھے بغیر ہی مسترد کر دیتی ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنانے جا رہے ہیں اور کوشش کی ہے صحافیوں کے مسائل کو حل کیا جائے۔وزیر اطلاعات نے حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ قوم پرست سیاست کر رہے ہیں اور وہ خود کو بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے الگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو 3 سال میں ایک ہزار 600 سے ایک ہزار 800 ارب روپے دیے گئے اور اس بجٹ میں بھی سندھ کا حصہ بڑھایا گیا ہے۔ سندھ کے پاس اتنا پیسہ آیا لیکن وہ گیا کہاں؟،وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو 500 میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اتنا پیسہ ملنے کے باوجود اب تک پولیس محکمہ کو ٹھیک نہ کر سکی اور کراچی پولیس میں اتنی اہلیت نہیں کہ امن بحال کرے۔ سندھ حکومت ہر سال وفاق کی منت کرتی ہے کہ رینجرز کو صوبے میں رہنے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بدین، گھوٹکی اور دیگر علاقوں کے نام پر پیسہ لیا جاتا ہے لیکن وہاں کام نہیں ہوتا۔ گذشتہ چند سال میں لاڑکانہ پر 90 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن کام نظر نہیں آرہا، قائم علی شاہ ہو یا مراد علی شاہ ان کو صرف ربڑ اسٹمپ کے طور پر وزیراعلی ہاؤس میں بٹھایا جاتا ہے،جس کی تاریں زرداری خاندان کے پاس ہوتی ہیں جو اسے کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ صوبے کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار وزیراعلی یا سندھ اسمبلی کے پاس نہیں     بلکہ بلاول اور زرداری ہاؤس سے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج حل نہیں کیونکہ یہ غیر جمہوری عمل ہے تاہم سندھ میں اس وقت آرٹیکل 140 اے لاگو کرنے کی ضرورت ہے،من پسند ٹھیکہ داروں کو ٹھیکے دے کر کب تک سندھ کو چلایا جائے گا۔ سب سے زیادہ پلی بارگین کے کیسز سندھ کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی ایک خوبی ہے کہ ہر چیز کو پڑھے بغیر مسترد کرنا ہے اور انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کو بھی مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، اسحاق ڈار اور ان کے بیٹے بھی تو باہر ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اوورسیز پاکستانی ملک سے پیسہ نہیں لے کر جاتے بلکہ باہر سے بھیجتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق جو ریمارکس دیے گئے اس کی مذمت کرتا ہوں۔فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو اگلے الیکشن میں ناکامی نظر آرہی ہے اس لیے اصلاحات نہیں چاہتی۔ فواد چوہدری نے احسن اقبال، مریم اورنگزیب، سعدرفیق اور دیگر کو خطاطی سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ قلم دوات لے کر خود ہی لکھیں کہ حکومت نامنظور۔ ان کے بینرز کا خرچہ بچے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر برس گرمی میں کراچی میں بجلی شدید بحران ہوتا ہے لیکن وفاقی حکومت کے خصوصی انتظامات کی بدولت کراچی کے شہریوں کو گرمی میں لوڈشیڈنگ بھگتنی نہیں پڑی اور اس کے باعث آنے والے دبا کے نتیجے میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹرپنگ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس سال گندم، چاول اور مکئی کی ریکارڈ فصل ہوئی، موبائل ڈیٹا اور کالز پر ٹیکس کو مسترد کر دیا گیا، حکومت نے چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں بھی کمی کی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں