0

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔ہم ترقیاتی کام بھی زیادہ کر رہے ہیں۔روزانہ کی اجرت اکیس ہزار روپے کردی ہے۔بجٹ میں قبائلی اضلاع کے عوامی مسائل حل کئے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پری بجٹ مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیرخزانہ وصحت تیمورسلیم جھگڑا،معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش اور وزیربلدیات اکبرایوب خان بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے مزید کہا کہ ہم اصلاحات کے ذریعے بہتری لارہے ہیں۔کچھ ٹیکس کر کے نیا کوئی نہیں لگائیں گے۔مرکز سے بجلی منافع سے لے رہے ہیں۔پچیس تیس ارب مرکز ہمیں دے رہاہے۔ماہانہ تین ارب مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقیاتی کام بھی زیادہ کررہے ہیں۔ہم نے روزانہ اجرت کوماہانہ 21000کردی ہے جس کی نگرانی کے لیے ڈویژنل فورس قائم کررہے ہیں۔اے جی این قاضی فارمولے کی مشترکہ مفادات کونسل نے منظوری دی ہے بجٹ کے بعد کمیٹی سفارشات کی منظوری دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے ساتھ قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 100ارب کاوعدہ کیاگیاتھالیکن صرف مرکز اورکے پی حصہ دے رہے ہیں دیگر نہیں۔ 24ارب سے 64ارب پرہم ضم اضلاع کاترقیاتی پروگرام پہنچادیاہے۔ ہم قبائلی اضلاع اورعوام کے مسائل حل کررہے ہیں اور اس بجٹ میں بھی ان کے مسائل حل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کامکمل انضمام ہمارا اصل کارنامہ ہے۔گزشتہ حکومت نے تین منصوبے دئیے جس پردوسال باتیں سنتے رہے۔سب میں مسائل تھے۔ہم نے سوات موٹروے،بی آرٹی اوررش کئی اکنامک زون یہ سب مکمل کئے۔سوات اوردیرایکسپریس وے،پشاور ڈیرہ موٹروے اورچشمہ لفٹ کنال کے منصوبے اہم ہیں جن پرکام ہورہاہے۔ چھ اکنامک زون بنارہے ہیں اورنجی سیکٹر کے حوالے سے بھی غورکریں گے۔خواتین کے مسائل حل کے لیے بھی ہم کام کررہے ہیں۔وزیرخزانہ کے مطابق ہم تاریخی بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں۔اس سال ہم نے اپنے وسائل 53ارب تک پہنچائے۔ترقیاتی کام بھی کوویڈ کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دئیے۔ ہم نے اپنے وسائل کاہدف پچاس ارب روپے رکھاتھاجو53ارب تک جائے گا۔ ہم اس سال 205 ارب ترقیاتی کاموں پرخرچ کریں گے جوگزشتہ سال 171ارب تھے۔ہم نے جون ازم کے خاتمے کے لیے سارے سال فنڈزجاری کیے,7.2ملین خانداں وں کو صحت کارڈذ دئیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس سال کئی بڑے منصوبے مکمل کیے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ انیس سے کم درجے کے ملازمین کو25فیصد اضافہ دیں گے۔صحت کارڈسمیت سکولوں کے لیے فرنیچرفراہم کیا جائے گا۔ اپوزیشن کوبجٹ پرتنقیدکے لیے کچھ نہیں ملا۔وہ سمجھ نہیں رہے کہ کہناکیاہے۔ صوبے پرجوقرضہ ہے وہ جی ڈی پی کی شرح سے دس فیصدسے کم ہے۔جہاں ہم ٹیکس کم کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں