0

پنجاب کا 2653 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں، پنشن میں 10 فیصد اضافہ

لاہور (مانند نیوز ڈیسک) پنجاب کے مالی سال 22-2021کا مجموعی طور پر 2653ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیاتاہم اس دوران اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا،پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2021-22 کا مجموعی حجم 2653ارب روپے ہے، پنجاب کے سالانہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ہاشم جواں بخت نے کہا کہ پہلے سے 9سروسز پرعائد ٹیکس کی شرح بھی کم کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں کورونا سے متاثرہ تاجروں کیلئے 40ارب روپے ریلیف پیکج کی تجویز ہے۔وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق بجٹ میں امن و امان، صحت اور تعلیم پرخصوصی توجہ دی جائے گی۔ خصوصی اقدامات کیلئے 91ارب 41کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے کہا کہ جنوبی پنجاب کیلئے کل بجٹ کا 35 فیصد خرچ کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کیلئے 189ارب روپے مختص کرنے کی تجویر ہے۔ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ چولستانی علاقوں کی ترقی کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انصاف آفٹر نون پروگرام کیلئے ساڑھے 6ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں شعبہ آبپاشی کیلئے 31ارب روپے، انفرااسٹرکچرکیلئے 66ارب روپے، ای گورننس کیلئے 5 ارب روپے اور مختلف اضلاع میں 19نئی یونیورسٹیزبنانے کے لیے ایک ارب 54 کروڑ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔وزیر خزانہ پنجاب کے مطابق شعبہ صحت پنجاب کیلئے 98ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج کو پنجاب میں نافذ کیا جائے گا۔ غریب اورپسماندہ علاقوں کے شہریوں کو صحت کی سہولیات کیلئے 60ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ہاشم جواں بخت کے مطابق بیماریاں کنٹرول کرنے کیلئے اینٹی گریٹڈ پروگرام کے تحت 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں 14 ارب روپے کی لاگت سے ایک ہزار بستر پرمشتمل اسپتال کی تعمیرشروع ہو گی۔ ڈسٹرکٹ اورتحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ پنجاب بجٹ میں لاہورکیلئے 62 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے کہا کہ شعبہ صحت پنجاب کیلئے 96 ارب روپے مختص کیے ہیں۔وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک سے 19 کے لیے اسپیشل الاؤنس کی مد میں پچیس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں کم از کم اجرت 17 ہزار پانچ سو سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دی گئی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں