0

چترال، رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کا ریشن کا دورہ

چترال (گل حماد فاروقی) گزشتہ دنوں ضلع اپر چترال کے ریشن کے مقام پر جو تباہ کن سیلاب آیا تھا جس کے نتیجے میں سیلابی ریلے نے مین شاہراہ  کو ریشن کے مقام پر مکمل طور پر تباہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک بھر سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ اس سیلاب کی وجہ سے دریا کے کنارے آٹھ گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے تھے جبکہ بارہ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ یہ راستہ پانچ دن تک بند رہا تاہم بعد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی  اور انتظامیہ نے لوگوں کے گھروں اور زمین میں سے متبادل راستے کا انتظام کیا۔ یہ راستہ جہاں سے گزرا ہے اس کے دونوں جانب لوگوں کے مکانات ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ راستہ  کچا ہے اور پر بھاری ٹریفک ہونے کی وجہ سے ان کے گھروں تک مٹی و گرد  و غبار جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔متاثرین نے یہ بھی شکایت کی کہ جن کے گھر بار سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں ان کو ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔ چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے ریشن میں اس متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور  متاثرین سے مل کی ان کی داد رسی بھی کی۔ مولانا چترالی نے اپنے جیب سے ان متاثرین میں امدادی رقم تقسیم کی۔ اس سلسلے میں ایک سادہ تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی مہمان حصوصی تھے۔جبکہ تقریب کی صدارت حاجی بلبل امان تھے۔ تقریب سے اکبر خان، معراج  الدین، سلطان نگاہ، صوبیدار شاہ عالم، اخونزادہ رحمت اللہ، جاوید حسین وغیرہ نے اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب یہاں بننے والے ایک غیر معیاری اور ناقص حفاظتی دیوار کی وجہ سے رح بدل کر ہمارے گھروں کو ملیا میٹ کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حفاظتی دیوار میں صرف ریت اور مٹی استعمال ہوئی تھی جس پر تقریباً  اسی لاکھ روپے کا قومی خزانے کو ٹیکہ لگ گیا جس کی باقاعدہ تحقیقات ہونا چاہئے اور متعلقہ افسران اور ٹھیکدار کے حلاف قانونی کاروائی ہوناچاہئے۔تقریب میں MNA عبد الاکبر چترالی نے امدادی پیکیج تقسیم کیا جن کا گھر مکمل تباہ ہوا تھا ان کو فی گھرانہ 25000 روپے اور جن کا جزوی نقصان ہوا تھا ان میں پانچ پانچ ہزار روپے کا امدادی چیک تقسیم کئے۔بعد ازاں مولانا چترالی نے متاثرہ جگہہ کا دورہ کیا اور لوگوں سے اظہار حیال کیا۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے  اکبر خان نے بتایا کہ میرا گھر زمین، سب کچھ دریا برد ہوگیا مگر حکومت کی جانب سے ابھی تک ہمیں کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان متاثرین کی رہائش کیلئے صحیح بندوبست کیا جائے جو ابھی بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے  یا رشتہ داروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ محمد علی  اور اس کے بیٹے کا گھر بلکہ دریا کے کنارے پر واقع تھے جس میں اب صرف ایک دیوار باقی ہے اور بچوں کے جوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا گھر اور زمین سب کچھ دریا برد ہوگیا اور میرا چوبیس کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے مگر مجھے ابھی تک کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ شاہ نادر، سلطان نگاہ، چراغ الدین وغیرہ نے بتایا کہ ہمارا گھر بار، زمین، کھڑی فصل اور سب کچھ دریا برد  ہوگیا اب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ ابھی تک ہم بے یارومددگار ہیں اور ہمارے ساتھ کسی نے بھی امداد نہیں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ حکومت نے ہمارے گھروں اور زمین میں سے متبادل راستہ تو بنادیا مگر ہمیں اس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔ شہزاد احمد شہزاد جو ایک مقامی صحافی ہے اور ان لوگوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کے گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں وہ یا تو رشتہ داروں کے گھروں میں رہتے ہیں یا پھر کھلے آسمان تلے۔ سیلاب کی وجہ سے پینے کی پانی کا پائپ لائن، آبپاشی کی نہریں، کھڑی فصل اور پھل دار باغات، درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور بعض کو پہنچنے کا حطرہ ہے۔ ان متاثرہ لوگوں کے پاس پینے کی پانی کی شدید قلعت ہے اور ان کو سر چھپانے کیلئے جگہہ بھی چاہئے۔متاثرین ریشن اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ جو لوگ سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوچکے ہیں اور جن کی زمین میں سے متبادل راستہ بنایا گیا ہے ان سب کے ساتھ فوری طور پر مالی امداد کی جائے اور ان کو معاوضہ دیا جائے نیز ریشن چونکہ بار بار سیلاب کی ضد میں آکر تباہ ہوتا ہے تو ان لوگوں کو قاقلشٹ یا کسی دوسرے محفوظ مقام میں ان کو مفت زمین دیکر آباد کیا جائے تاکہ آئندہ یہ لوگ سیلاب سے محفوظ رہ سکے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں