0

ایران کا جوہری بجلی گھر کو اچانک عارضی طور پر بند کر دیا

تہران (مانند نیوز ڈیسک)  ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کو اچانک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ بوشہر پلانٹ کو سنیچر کو بند کیا گیا اور یہ اگلے تین چار دن بند رہے گا۔ایران میں بجلی کی فراہمی کی ذمہ دار سرکاری کمپنی کے ایک اہلکار غلام علی رخشانی مہر نے غیر ملکی  ٹی وی ٹاک شو میں بتایا کہ پاور پلانٹ کی بندش سنیچر کو ہوئی۔ تاہم انہوں نے پلانٹ بند کرنے کی وجہ نہیں بتائی۔انہوں نے بتایا کہ پاور پلانٹ کی بندش سے  بجلی کی فراہمی بند ہوگی تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔یہ پہلا موقع پے کہ ایرن نے سرکاری طور پر جوہری بجلی گھر کی ایمرجنسی میں بندش کے حوالے سے بتایا ہے۔یہ جوہری توانائی پلانٹ ایران کے جنوبی ساحلی شہر بو شہر میں واقع ہے جس کی تعمیر کا کام سن 1970 میں شروع ہوا تھا۔ بعد میں روس کی مدد سے اس کی تعمیر مکمل ہوئی تھی اور سن 2011 میں اس نے کام کرنا شروع کیا۔جوہری عدم پھیلا کے معاہدے کے تحت، پلانٹ کو بجلی بنانے کے لیے استعمال میں آنے والا یورینیم روس میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جو بھی یورینیم ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کے فضلہ کو بھی روس کو واپس بھیجنے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم امریکی پابندیوں کی وجہ سے، ایران کو روس سے اس پلانٹ کے لیے دیگر ساز و سامان اور ٹیکنالوجی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔۔ یہ ایٹمی بجلی گھر سنہ 2011 میں روس کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ایران اس بجلی گھر کے ری ایکٹر میں استعمال کیے گئے فیول کے راڈز کو واپس روس بھیجنے کا پابند ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایٹمی بجلی گھر کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔رواں برس مارچ میں اس بجلی گھر سے منسلک ایک اہلکار محمود جعفری نے کہا تھا کہ پاور پلانٹ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پابندیوں کے باعث ایران بجلی گھر کے لیے پرزے اور آلات خریدنے سے قاصر ہے کیونکہ روس کو بینکوں کے ذریعے ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔بوشہر پاور پلانٹ روس کی دی گئی یورینیم سے چلتا ہے اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کرتی ہے۔عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بوشہر پاور پلانٹ کی بندش پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں