0

پاکستان میں پانی کی کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان میں پانی  کی کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی  کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ  موجودہ صورت حال جاری رہی تو 2 جولائی تک ملک مشکل کا شکار ہوجائے گا تربیلا ڈیڈ لیول تک جاسکتا ہے اور پانی کی قومی کمی 30 سے 35 فیصد ہوسکتی ہے۔ملک میں پانی فراہمی گزشتہ ہفتے 50 فیصد تک کم ہوگئی تھی۔  ایک رپورٹ کے مطابق ارسا کے اعداد و شمار کے مطابق ملکی دریاں کا بہا 13 جون 4 لاکھ 56 ہزار کیوسک تھا جو پیر کے روز 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک تک کم ہوگیا یعنی اس میں 50 فیصد کمی ہوئی۔ سب سے زیادہ کمی دریائے سندھ میں ریکارڈ کی گئی جو 2 لاکھ 25 ہزار کیوسک سے 97 ہزار 800 ہوگئی۔ارسا ترجمان خالد ادریس رانا نے کہا کہ اتھارٹی نے نے تربیلا اور منگلا دونوں ڈیمز سے اضافی پانی نکالنا شروع کردیا ہے لیکن صوبوں میں کمی کو دور کرنا شروع نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ارسا صرف آئندہ 10 روز تک اضافی فراہمی کرسکتی ہے اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پورے ملک کو اس سے چوٹ پہنچے گی۔ارسا قومی سطح پر 2 لاکھ 73 ہزار 100 کیوسک پانی فراہم کررہی ہے جس میں ایک لاکھ 49 ہزار سندھ، 14 ہزار بلوچستان اور 3 ہزار 100 کیوسک پانی خیبر پختونخوا کو دیا جارہا ہے۔اس مقصد کے لیے اتھارٹی تربیلا سے ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک پانی جاری کررہی ہے جبکہ منگلا ڈیم سے پانی کے اخراج کو 25 ہزار سے بڑھا کر 55 ہزار کیوسک کردیا گیا ہے۔تاہم اتھارٹی نے پنجاب کو بتایا ہے کہ چشمہ جہلم لنک کنال اس وقت 12 ہزار کیوسک ہے جسے گریٹر تھل کنال میں پینے کے پانی کی فراہمی کی غرض سے کم کر کے 2 ہزار کیوسک کردیا جائے گا۔اسے منگلا ڈیم سے اضافی فراہمی لینی چاہیے جس کے لیے جھیل سے اخراج دگنا کردیا گیا۔محکمہ آب پاشی کے عہدیدار نے کہا کہ ‘مجموعی طور پر کمی واقع ہوئی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران نہ صرف دریائے سندھ بلکہ دریائے کابل سے پانی کی فراہمی بھی 80 ہزار کیوسک سے کم ہوکر 42 ہزار کیوسک، دریائے چناب سے 60 ہزار کیوسک سے کم ہو کر 34 ہزار کیوسک، جبک دریائے جہلم سے پانی کی فراہمی 78 ہزار 400 سے کم ہو کر 48 ہزار 400 کیوسک رہ گیا’۔انہوں نے کہا کہ منگلا سے مزید پانی کے اخراج کا مطلب پنجاب کے لیے آئندہ پورے سال کے لیے پنجاب کے لیے مشکلات ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ پانی کے اضافی اخراج کی وجہ سے ڈیم میں صورتحال پہلے ہی خراب ہے ایک لاکھ 2 ہزار 8.65 فٹ کے بجائے جھیل میں پانی کی سطح ایک ہزار 153.5 فٹ ہے یعنی 55.15 فٹ کا فرق ہے۔انہوں نے بتایا کہ ‘پریشانی یہ ہے کہ تربیلا جھیل کو 4 فٹ یومیہ یا ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک سے زیادہ خالی نہیں کیا جاسکتا لیے اضافی پانی منگلا ڈیم سے آنا ہے۔دوسری جانب خالد رانا نے کہا کہ موسم کی تمام پیش گوئیاں خبردار کررہی ہیں کہ کم درجہ حرارت آئندہ ہفتے تک برقرار رہے گا اس کا مطلب گلیشیئرز سے پانی کا کم بہا اور اگر یہی سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہا تو 2 جولائی تک ملک مشکل کا شکار ہوجائے گا تربیلا ڈیڈ لیول تک جاسکتا ہے اور پانی کی قومی کمی 30 سے 35 فیصد ہوسکتی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں