0

چترال میں سات روزہ صفائی مہم کا آغاز

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے تحصیل میونسپل انتظامیہ TMA  نے محتلف عوامی مقامات پر ڈسبین رکھوادئے۔ چترال کو صاف ستھرا رکھنے کے سلسلے میں سات روزہ صفائی مہم کا بھی آغاز کردیا گیا۔اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر  ڈیزاسٹر اینڈ ہیومن رائٹس عبد الولی خان  مہمان حصوصی تھے جنہوں نے تحصیل میونسپل آفیسر مصبا ح الدین کی بے لوث خدمات کو نہایت سراہا۔ انہوں نے بتایا چترال کو پھولوں کا شہر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں ہر گھر کے بالکونی اور دیوار پر آپ کو کوئی نہ  کوئی پھول گملا  ضرور نظر آئے گا اس کی بنیادی وجہ ہے کہ یہاں کے خواتین بھی نہایت نفیس طبیعت کے مالک ہیں اور وہ ضرور اپنے گھروں کو پھولوں سے سجاتی رہتی ہیں اگر صحن میں جگہہ نہ ہو تو دیواروں پر گملوں میں پھول  لگاتی رہتی ہیں۔ عبد الولی خان نے کہا کہ چترال شہر میں گندگی کی وجہ سے اکثر لوگوں کو مشکلات کا سامانا تھا اب جب سے مصباح الدین نے بطور تحصیل میونسپل آفیسر چارج سنبھالا ہوا ہے تو اس کا عملہ دن رات محنت کرکے چترال کو صاف رکھتا ہے تاہم بعض جگہوں میں کمی بیشی ضرور ہے مگر ہم امید کرتے ہیں کہ ٹی ایم اے چترال ضرور اسے صاف کرکے چترال کو پھولو ں کا شہر قرار دیگی۔ٹی ایم او مصباح الدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کو کافی مشکلات کا سامنا ہے مگر وہ اور اس کا عملہ اپنی قلیل وسائل میں سے چترال کو صاف رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت نے مہربانی کرکے ہمیں مزید مشنری، گاڑیاں اور سامان فراہم کیا تو وہ دن دور نہیں  کہ لوگ پورے پاکستان میں چترال کی مثالی امن کے ساتھ ساتھ چترال کی صفائی کا بھی مثال دیتے رہیں گے۔ سات روزہ صفائی مہم کے سلسلے میں ایک واک  کا اہتمام بھی کیا گیا۔اس موقع پر تاجر یونین صدر  شبیر احمد اور دیگر معززین نے بھی صفائی پر زور دیا۔ واک  محتلف بازاروں سے گزر گئی اور اس میں شریک لوگوں نے بینرز اور پلے کارڈ پکڑے تھے جن پر چترال کو صاف ستھرا رکھنے کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔ عوام پر زور دیا گیا کہ وہ کوڑا کرکٹ  گلی کوچوں اور بازاروں میں نہ ڈالے بلکہ اسے میونسپل انتظامیہ کی جانب سے رکھے گئے ڈسبین میں ڈالا کرے تاکہ ٹی ایم ا ے کا عملہ اسے  روزانہ اٹھایا کرے اور یوں چترال شہر صاف ستھرا رہے تاکہ سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی بدبو سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صفائی مہم کے سلسلے میں آگاہی واک میں محتلف طبقہ فکر سے لوگوں نے شرکت کی جو اتالیق بازار میں احتتام پذیر ہوئی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں