0

شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری

الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری،کاروبار ٹھپ ہوکررہ گیا،غوربند ٹریڈ او ر علاقہ مکینوں کا ڈھیرئی بازار میں واپڈا خلاف احتجاج،بھاری بھاری بلے اداکرتے ہیں جبکہ بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے سے تجاوز کرگیا۔بیشتر علاقوں میں بجلی بندش کے باعث پانی کی قعلت۔شانگلہ نیشنل گریڈ کو100میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کرتی ہے جبکہ ضلع 8میگاواٹ پر چل سکتا ہے،بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنز کیوجہ سے واپڈا سارا زور غریب عوام سے اُتار رہا ہے جن کیلئے تیار نہیں۔شانگلہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام سمیت انجمن تاجران نے واپڈاخلاف بھرپور احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شانگلہ میں نہ کوئی اینڈیسٹری ہے نہ کوئی کارخانہ اس کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔ہسپتالوں اور گھروں میں بچوں،بزرگوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کنوں سے پانی نکالنے کیلئے بجلی دستیاب نہیں،کاروباری نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے اور سب سے زیادہ بجلی پر چلنے والی چھوٹے صنعتیں شدید مالی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔مختلف حلقوں کیجانب سے جاری کردہ بیانات میں واپڈا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ شانگلہ میں طویل لوڈشیڈنگ اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے منتخب نمائندے،شانگلہ ایکشن کمیٹی صورتحال کا نوٹس لے اور گرینڈ جرگہ بلایا جائے۔ہم اسلام آباد کو روشن کرتے ہیں جبکہ خود اندھیروں میں ہیں اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے،مقررین کا کہنا تھا کہ خان خوڑ ڈیم سے شانگلہ کو بجلی دینی تھی تاہم بروقت صحیح اگریمنٹ نہ ہونے کیوجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار رہااور اسی ڈیم سے نجلی دینے کے حوالے سے منتخب نمائندوں نے باربار افتتاح کرتے رہیں تاحال وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور ہر الیکشن میں یہ نمائندیں اپنے تقریر کے شروع اور آخر میں یہاں گریڈاسٹیشنوں،بجلی کی سکیموں کی باتیں کرتے رہے۔ جو شانگلہ میں گزشتہ15دنوں میں بجلی کی بندش ہورہی ہے وہ یہاں کے منتخب نمائندوں کیلئے باعث تشویش ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں