0

سوات میں نئے تعمیر شدہ کورٹس کا باقاعدہ افتتاح

سوات (مانند نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے کبل اور مٹہ میں نئے تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وکلاء اور سائلین کے تمام تر مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے جبکہ نئی تعمیر شدہ عمارت کو جلد شفٹنگ کا عمل مکمل یقینی بنائیں گے تاکہ وکلاء اور سائلین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں۔افتتاحی تقریب کے موقع پر جسٹس اشتیاق ابراہیم،جسٹس وقار احمد خان، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام،ڈپٹی کمشنر سوات جنیدخان، ڈی پی او سوات دلاور بنگش، آر پی او سوات، کبل بار ایسوسی ایشن صدر افسر علی خان، جنرل سیکرٹری اور دیگر کابینہ و جملہ سول ایڈمنسٹریشن موجود تھے۔جبکہ ملاکنڈڈویژن کے دیگر علاقوں سے وکلاء برادری کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے نئے تعمیر شدہ کورٹس کا باقاعدہ افتتاح کیا اور انہیں باقاعدہ طور پر اس حوالے سے بریفنگ دی گئی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ جوڈیشل کمپلیکس میں سائلین کو تمام تر سہولیات فراہم کریں گے اور عدالتوں میں یقینی طور پر انصاف فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ ملاکنڈڈویژن دہشت گردی و سیلاب سے متاثرہ ہے۔ یہاں کی عوام کی قربانیوں کو نظر اندازنہیں کریں گے۔سوات میں ٹورازم کو ترقی اوراس پر فنڈ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر کبل بار سے جاری پریس ریلیز میں کہاگیا کہ چیف جسٹس قیصر خان نے نئی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہاہے کہ عدالتوں میں یقینی طور پر انصاف فراہم کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دریائے سوات میں کسی بھی صورت آلودگی برداشت نہیں کریں گے اور انتظامیہ کو دریائے سوات سے فوری طور پر تجاوزات کو ہٹانے کا حکم دیا جبکہ عوام کیلئے نئی عدالتوں میں جملہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی۔اس موقع پر منعقدہ تقریب میں کبل بار صدر کے علاوہ دیگر کابینہ کے ارکان فضل اقبال، احمد حسین، فضل قدیم،انور علی خان، سید حضرت علی کے علاوہ وکلاء برادری بڑی تعداد میں موجود تھی۔چیف جسٹس نے نئے تعمیر شدہ کورٹس میں شجر کاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے پودا لگایا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں