0

شمالی وزیرستان کے دُکانوں میں عطائی ڈاکٹروں نے ادویات کی فروخت کا دھندہ شروع کردیا

شمالی وزیرستان (مانند نیوز ڈیسک) میرانشاہ (زین اللہ خان) شمالی وزیرستان کے پسماندہ ترین علاقہ سپین وام میں پرچون کی دُکانوں میں عطائی ڈاکٹروں نے ادویات کی فروخت کا دھندہ شروع کر دیا ہے اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے لگے ہیں تاہم ذمہ دار حکام نے بار بار کی درخواستوں کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ سپین وام کے سیاسی رہنماء اور گرینڈ جرگہ سپین وام کے صدر ملک لیاقت علی خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ایک طرف حکومتی لاپرواہی کے باعث نا انصافی یہاں تک پہنچی ہے کہ ان کے علاقے میں چودہ ہزار کی ابادی کیلئے کوئی مرکز صحت نہیں جبکہ بعض مقامات پر انتہائی غیر ضروری مراکز صحت بغیر کسی فزیبیلٹی کے بنائے گئے ہیں جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ مالکان مکان کے ذاتی حجروں کا کام دے رہے ہیں دوسری طرف پورے علاقے کو عطائی ڈاکٹروں اور طبیبوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور دو تین نمبر ادویات لا کر عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ ملک لیاقت علی خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو بار بار اس بارے میں درخواستیں دی ہیں تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حال ہی میں غلط ادویات کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں جس کی ذمہ داری انہی انتظامیہ پر عائد ہو تی ہیں۔ انہوں نے ذمہ دار حکام سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں