0

مران کے سینکڑوں طلبہ کا مستقبل تاریک۔سینکڑوں طلبہ گزشتہ سات ماہ سے خوار

مردان(مانندبیورونیوز)عبدالولی خان یونیورسٹی مران کے سینکڑوں طلبہ کا مستقبل تاریک۔سینکڑوں طلبہ گزشتہ سات ماہ سے خوار ہورہے ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کیساتھ سوتیلی ماہ جیسا سلوک کررہے ہیں۔صدر متحدہ طلبہ محاز عباس خان۔عبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مردان میں سینکڑوں طلبہ کا مستقبل داو پر لگادیا۔سینکڑوں طلبہ گزشتہ سات ماہ سے خوار ہورپے ہیں۔عبدالولی خان یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کیساتھ سوتیلی ماہ جیسا سلوک کررہے ہیں۔غریب طلبہ کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار متحدہ طلبہ محاز کے صدر عباس خان،سینیئرنائب صدر شبیر خان اور نائب صدر فضل ربی نے مردان پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سینکڑوں طلبہ نے 2016میں ہیسٹری بی ایس میں داخلہ لیا تھا۔لیکن 2018کو ہائیرایجوکیشن کمیشن نے ایک لیٹر جاری کیا کہ مردان کالج کا ہیسٹری ڈیپارٹمنٹ ایچ ای سی کے ساتھ الحاق شدہ نہیں ہے
اس لئے اب ایچ ای سی سینکڑوں طلبہ کی ڈگری کے ویری فیکشن سے انکاری ہے
۔اس لئے اب ایچ ای سی سینکڑوں طلبہ کی ڈگری کے ویریفکیشن سے انکاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے باربار کالج اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے انتظامیہ سے اس بارے میں استفارکیا۔مگرکوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں سرکاری ادارے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالج اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمیں مشورہ دیا کہ اپ لوگ ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم غریب طلبہ ہیں اور بڑی مشکل سے اپنی پڑھائی کاخرچ پورا کررہے ہیں۔جبکہ ہائی کورٹ کے وکیل کا فیس ڈیڈھ لاکھ تک ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ مزکورہ یونیورسٹی اور کالج کے پرنسپل اور وائس چانسلر مردان سے تعلق رکھنے والے وزراء کے بنگلوں میں وزراء کی خدمت کررہے ہیں۔انہوں نے مشیر ہائیر ایجوکیشن کامران بنگش سے اپیل کی ہے کہ مردان کے سینکڑوں طلبہ کامشتقبل کوبچایاجائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں