0

دنیا کے دیگر ممالک نے افغانستان مسئلے پر اپنے اپنے پارلیمنٹ کے اجلاس بُلائے ہیں، محسن داوڑ

سخاکوٹ (مانند نیوز ڈیسک) نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے مرکزی چیئرمین اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک نے افغانستان مسئلے پر اپنے اپنے پارلیمنٹ کے اجلاس بُلائے ہیں جس میں اس اہم ایشو پر سنجیدگی کیساتھ غور کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان جیسے اہم معاملے پر پاکستان میں پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بُلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ این ڈی ایم کے قیام کا مقصد نوجوانوں کو آگے لانا اور سیاسی پلیٹ فارم سے قومی مسائل حل کرنا اور معاشرے سے بے انصافی کا خاتمے کرکے مضبوط جمہوری تنظیم قائم کرنا ہے۔ پی ٹی ایم ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ ایک ایجنڈے کے تحت شریک ہیں اور ہم نشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے پلیٹ فارم سے بھی ان کی مکمل حمایت کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیدورہ ملاکنڈ کے دوران سخاکوٹ میں نشنل یوتھ آرگنائزیشن کے سابق ضلعی صدر ملاکنڈ معوذ خان شلمانی اورضلع کے دیگر سیاسی قائدین سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر این ڈی ایم کے مرکزی آرگنائزیشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری مزمل شاہ اور دیگر ممبران بھی ان کے ہمراہ تھے۔محسن داوڑ نے کہا کہ بلوچستان اور زیارت میں سرکاری اہلکاروں پر ہونے والے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے موجودہ حالات کی دنیاکے دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ آثرات پاکستان پر پڑیں گے لیکن سمجھ نہیں آتا کہ اج تک اس اہم ایشو پر پاکستانی پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں نہیں بُلایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ پی ڈ ی ایم سے اصولی موقف پر علیحدگی اختیار کی تھی کیونکہ پی ڈی ایم کے قیام کے وقت ستائیس پوائنٹس اور مومنٹ کی قیادت کی روٹیشن پر اتحاد ہوگیا تھا لیکن وقت کیساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان اس کے قیادت پر قبضہ ہوگئے اور بات ستائیس پوائنٹ ایجنڈے سے کم ہو کر صرف دس پوائنٹس پر آگئی اس لئے مومنٹ سے علیحدگی کا فیصلہ کیااور جب اصولوں پر علیحدگی اختیار کی ہے تو نشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے پلیٹ فارم سے بھی ان کیساتھ اتحاد کرنے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ جن باتوں پر علیحدگی ہوئی ہے اس پر اب بھی قائم ہیں جبکہ پی ڈی ایم کے کچھ لوگ ہمارے اس موقف کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ نشنل ڈیموکریٹک مومنٹ پورے ملک میں عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائے گی اور کسی بھی قوم یا فرد کیساتھ ہونے والے نا انصافی کے خلاف کھڑے ہو گی۔ محسن داوڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوانوں کو قیادت دینا اور انہیں آگے لاکر ملک و قوم کے ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنے کا موقع دینا در اصل نشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے قیام کا اہم جُز ہے اور انشاء اللہ پورے صوبے و ملک کا دورہ کرکے لوگوں کو آمن و خوشحالی کا پیغام دینگے اور مضبوط جمہوری تنظیم قائم کرکے انے والے نسل کے لئے ملک کی بھاگ ڈور سنھبالنے کا موقع فراہم کرینگے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے اجکل معاشرے میں نوجوان نسل کو قیادت کرنے کے مواقع نہیں مل رہے ہیں حالانکہ ملک کی بیشتر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ محسن داوڑ نے کہا کہ افغانستان میں جو حالات آج ہیں اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی لیکن سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر پڑیں گے کیونکہ آمریکہ نے حالات جہاں پہنچائے ہیں اس سے واپسی بہت مشکل ہو گی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں