0

سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں  سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کرانا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ا نہوں نے کہا کہ آرٹیکل 32 اور 140 بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے 2015 میں فیصلہ سنا چکی ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کرانے کی ذمہ داری پوری کرنے کا حکم دیا۔ مردم شماری کے نتائج جاری ہونے کے بعد سندھ حکومت نے نیا اعتراض لگادیا۔ الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے سی سی  آئی کے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 141 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہیں۔ کیا پارلیمنٹ کا 5 سال تک مشترکہ اجلاس نہ بلایا جائے تو کیا بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے؟۔ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کا انتظار کیے بغیر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے۔ سندھ حکومت کو حکم دیا جائے کہ ہمیں نقشہ جات اور ڈیٹا دیا جائے۔ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کوئی مسئلہ نہیں۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا سبب قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ مردم شماری کا اختیار مشترکہ مفادات کونسل کو دیا گیا۔مخالفت کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل میں نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب، وزیر بلدیات ناصر شاہ  اورایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ الیکشن کمیشن میں  پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفو ظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کاجو فیصلہ ہوگااس کا اطلاق سب صوبوں پر ہو گا، الیکشن کمیشن قومی مفاد میں فیصلہ کرے گا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں